کرسچین اسٹڈی سینٹر کے زیر اہتمام سندھ میں کمپوزٹ ہیریٹیج اور امن سازی پر 2 روزہ تربیتی پروگرام منعقد

سندھ بھر میں 25 سے زائد ہیٹ ریلیف کیمپ قائم ،ٹھنڈا پانی، او آر ایس، شربت، اور ابتدائی طبی امداد کا انتظام

بیرونی قرضوں کے مسئلے پر فوری طور پر قومی سیاسی مکالمہ شروع کیا جائے:پی ڈی پی

ڈپلومیسی، سیکورٹی-معرکہ حق میں کامیابی سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا، سردار مسعود

کراچی کلفٹن غازی مزار کے قریب سے ملنے والی نعش اسپتال منتقل

شہید بینظیر آباد میں پولیس کی چشم پوشی کے باعث منشیات کا دھندا بلا خوف و خطر جاری

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کسی صوبے میں گورنر راج کا کوئی امکان نہیں، لطیف کھوسہ کا گورنر راج کی آرٹیکل 232 میں گنجائش بنتی ہینہ 234 میں ہے

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)پیپلزپارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ کسی صوبے میں گورنر راج کا کوئی امکان نہیں، اور اس کی آرٹیکل 232 میں گنجائش بنتی ہے نہ 234 میں ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما بیرسٹر لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ کسی صوبے میں گورنر راج کا کوئی امکان ہے ہی نہیں، اس کی آرٹیکل 232 میں گنجائش بنتی ہے نہ 234 میں ہے، اور وہاں کوئی جنگ کی صورتحال ہے نہ ہی گورننس کا معاملہ ہے۔لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی بادشاہت تھوڑی ہے کہ ایسے جا کر اسمبلی توڑ دیں، ایسا کچھ کیا بھی گیا تو عدالت اٹھا کر باہر پھینک دے گی گورنر راج نہیں لگ سکتا۔رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جا سکتا ہے یا عدم اعتماد آسکتی ہے، ایسا نہ ہوا تو اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی، تحلیل ہونے پر واضح ہے دونوں اسمبلیوں میں الیکشن کروا دیئے جائیں گے۔