پشاور ہائیکورٹ : بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسمنٹ سرچارج غیر قانونی قرار

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسمنٹ سرچارج کو غیر قانونی قرار دے دیا،ایک ماہ کے اندر صارفین کو پے منٹ واپس کرنے کی ہدایات جاری کردی ۔پشاور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس نثار حسین پر مشتمل دو رکنی بینج نے فیول ایڈجسٹمنٹ کیس کی سماعت کی ، سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ نیپرا ہر ماہ خیبر پختون خوا میں مختلف ٹیکسز لگادیتا ہے جو کہ خیبرپختون خوا کی عوام کے ساتھ ایک ظلم ہے عدالت کا کہنا تھاکہ گھریلو صارفین بجلی چوری نہیں کرتے بجلی چوری میں صنعتکار ملوث ہیں، فیول ایڈجسمنٹ سرچارج کس قانون کے تحت لگایا گیا ہے کیونکہ ایسا کوئی نظام نہیں ہے ، عدالت نے پیسکو کو حکم دیا کہ ایندھن سرچارج کی مد میں وصول کی گئی رقم ایک ماہ کے اندر صارفین کو واپس کی جائے دوسری جانب کیس کی سماعت کیبعد پیسکو کے وکیل نے صحافیوں سے بات کرتیہوئے کہا کہ پیسکو کو اب تک 60 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے تاہم عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد حکمت عملی طے کی جائیگی۔