سال 2013 میں پاکستان کی کھیلوں میں کارکردگی ملی جلی رہی:رپورٹ

کراچی: سال2013 میں پاکستان کی ون ڈے کرکٹ میں کارکردگی شاندار رہی، گرین شرٹس نے جنوبی افریقہ کیخلاف پہلی بار ون ڈے سیریز جیتی۔ ٹیسٹ میں زمبابوے کی کمزور ٹیم کے خلاف شکست ہوئی۔ قومی ہاکی ٹیم تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ سے ہی باہر ہو گئی۔ اسنوکر میں پاکستان نے ورلڈ ٹیم اور سکس ریڈ بال چیمپئین شپ جیتی۔ دو ہزار تیرہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کیلئے مشکل سال ثابت ہوا۔ قومی ٹیم نے تین ٹیسٹ سیریزکھیلیں، ایک میں شکست ہوئی جبکہ دو برابر رہیں۔ جوہانسبرگ ٹیسٹ میں قومی ٹیم اپنی تاریخ کے کم ترین اسکور 49 رنز پر آﺅٹ ہوئی۔ زمبابوے نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میں چوبیس رنز سے شکست دے کراپ سیٹ کیا۔ ون ڈے میں پاکستان کی کارکردگی شاندار رہی۔ گرین شرٹس نے مصباح الحق کی قیادت میں نو ون ڈے سیریزکھیلیں جس میں سے آٹھ میں فتح حاصل کی۔ جنوبی افریقہ کو اس کی سرزمین پر پہلی بار شکست دی۔ پاکستان نے اس سال سب سے زیادہ آٹھ ٹی ٹوئنٹی میچز میں کامیابی حاصل کی۔ ون ڈے میں انفرادی کارکردگی کے لحاظ سے مصباح الحق اور محمد حفیظ قابل ذکر رہے۔ مصباح نے کیلنڈر ائیر میں1373 رنز اسکورکرنے کے علاوہ سب سے زیادہ نصف سنچریوں کا ریکارڈ بھی بنا ڈالا۔ سعید اجمل اس سال ون ڈے میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بالرر ہے۔ انہوں نے ون ڈے، ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی میں وکٹوں کی سنچری بھی مکمل کی۔ ہاکی میں پاکستان ٹیم بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی نہ کرسکی۔ پاکستان جونیئر ٹیم نے ورلڈ کپ میں نویں پوزیشن حاصل کی۔ اسنوکر میں محمد آصف اور محمد سجاد نے پاکستان کیلئے ورلڈ ٹیم چیمپئین شپ اور سکس ریڈ چیمپئین شپ جیتی لیکن آصف ورلڈ چیمپئین شپ میں اپنے اعزاز کا دفاع نہ کرسکے۔ کبڈی میں پاکستان نے بھارت میں کھیلے گئے ورلڈ کپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ فائنل میں اسے بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ پاکستان نے پہلی بار ورلڈ یوتھ اسکریبل چیمپئین شپ جیتی۔ دبئی میں ہونے والی چیمپئین شپ میں سولہ ممالک کے ایک سو چھتیس پلئیرز میں پاکستان کے معیذاللہ بیگ نے پہلی اور جویریہ مرزا نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ دو ہزار تیرہ میں کرکٹ، ہاکی اور دیگرکھیلوں کو تنازعات کا سامنا بھی رہا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چئیرمین پی سی بی ذکاءاشرف کے انتخاب کوکالعدم قرار دیا۔ حکومت نے نجم سیٹھی کو قائم مقام چیئرمین مقررکیا لیکن ان کی تقرری بھی چیلنج کردی گئی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات کو سابق اولمپئینز کی بڑی تعداد نے غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے مستردکردیا۔ قاسم ضیاءکی جگہ اختر رسول فیڈریشن کے نئے صدر بن گئے۔