شدید گرمی سے آسٹریلین اوپن کے شرکاءپریشان ،کینیڈین کھلاڑی بے ہوش

میلبورن: آسٹریلوی شہر میلبورن میں سال کا پہلا ٹینس گرینڈ سلیم مقابلہ آسٹریلین اوپن جاری ہے تاہم اس میں حصہ لینے والے کھلاڑی سخت گرم موسم سے شدید پریشان ہیں۔ ٹورنامنٹ کے منتظمین کو 42 سنٹی گریڈ درجہ حرارت کے باوجود کھلاڑیوں کو کھیلنے پر مجبور کرنے پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی فرینک ڈینیوک کو اس وقت طبی امداد دینا پڑی جب وہ اپنے پہلے راونڈ کے میچ میں گرمی کی وجہ سے بیہوش ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے موسم میں کھلاڑیوں کو کھیلنے دینا غیرانسانی ہے۔ برطانوی ٹینس کھلاڑی اینڈی مرے نے بھی کہا ہے کہ اس قسم کے واقعات ٹورنامنٹ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ بیہوش ہوتے رہیں گے تو یہ کھیل کے لیے اچھا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ زیادہ تر کھلاڑی اس قسم کے موسم کے لیے تیاری کرتے ہیں لیکن تین سے چار گھنٹے اسے برداشت کرنا مشکل ہے۔ ٹورنامنٹ میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے والی وکٹوریہ ایزارینکا نے گرم موسم میں کھیلنے کو ‘توے پر ناچنے’ کے مترادف قرار دیا۔ میلبورن پارک میں گرم موسم کی وجہ سے جہاں سابق عالمی نمبر ایک خاتون کھلاڑی کیرولین ووزنیاکی کی پانی کی بوتل کی شکل بگڑ گئی وہیں فرانسیسی کھلاڑی جو ولفرڈ سونگا کے جوتوں کا تلا نرم پڑ گیا۔ گرمی کی وجہ سے ہی کورٹ پر موجود گیند اٹھانے والے لڑکے اور لڑکیوں کی شفٹ بھی ایک گھنٹے سے کم کر کے 45 منٹ کر دی گئی۔ کینیڈین کھلاڑی فرینک ڈینیوک پہلے راونڈ میں فرانس کے پینوئے پیئر کے مدِمقابل تھے اور یہ میچ کورٹ نمبر چھ پر کھیلا گیا جس پر چھت موجود نہیں۔ وہ گرمی کی شدت کی وجہ سے اس میچ کے دوسرے ہی سیٹ میں بیہوش ہوگئے۔ طبی امداد لینے کے بعد 29 سالہ ڈینیوک کا کہنا تھا کہ جب تک کوئی مر نہیں جاتا، یہ لوگ اسی طرح سلسلہ جاری رکھیں گے اور اتنی دھوپ میں میچ کرواتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غیرانسانی ہے اور میرے خیال میں کسی کے لیے بھی مناسب نہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ساری زندگی پانچ سیٹ کے میچ کھیلے ہیں لیکن یہاں ڈیڑھ سیٹ کے بعد ہی گرمی کی وجہ سے بیہوش ہونا معمول کی بات نہیں۔