ذکاءاشرف کی بحالی کیخلاف سپریم کورٹ سے درخواست واپس لے لی گئی

اسلام آباد: وزارت بین الصوبائی رابطہ نے چیئرمین پی سی بی ذکاءاشرف کی بحالی کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست واپس لے لی۔ ذکاءاشرف کی بحالی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرارہے۔ چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف کی بحالی کیخلاف درخواست پر سماعت جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اگر حکومت قانون کے مطابق کسی بھی عہدے دار کو ہٹانا چاہتی ہے تو ہٹا سکتی ہے۔ حکومت موجودہ قوانین میں ترامیم کا اختیار بھی استعمال کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت وزارت کو اپنے اختیارات استعمال کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ذکاءاشرف کے وکیل عفنان کریم کنڈی نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ وزارت اپنے اختیارات کا غلط استعمال تو نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ قوانین میں ترمیم کر کے پیٹرن کا رول ختم کر دیا گیا جبکہ آئی سی سی قوانین کے مطابق حکومت پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ وزارت بین الصوبائی رابطہ کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ایس آر او جاری کیا گیا اور وہ نوٹس میں نہیں لایا گیا۔ وزارت بین الصوبائی رابطہ میں سب ڈرے ہوئے ہیں کہ کہیں وزارت سے کسی عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہ ہو جائے۔ عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ ذکاءاشرف کو رواں برس ریٹائر ہونا تھا۔ گزشتہ سال قوانین میں ترمیم کے ذریعے چیئرمین پی سی بی کی مدت ملازمت چار سال کر دی گئی۔عاصمہ جہانگیر نے ذکاءاشرف کی بحالی کیخلاف درخواست واپس لے لی جس کے بعد کیس نمٹا دیا گیا۔