مشرف کے وکلا کو طالبان کا دھمکی آمیز خط مو صول

اسلام آباد: مشرف کا غدا ری کیس لڑنے والے تین وکلا نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں طالبان کی جانب سے دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے جبکہ کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کردی گئی۔ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے پرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغازپرسابق صدر کے وکیل احمد رضا قصوری نے کالعدم تحریک طالبان کی جانب دھمکی آمیز خط عدالت میں پیش کیا۔ احمد رضا قصوری نے عدالت کوبتایا کہ کالعدم تحریک طالبان نے مجھے، انور منصور ایڈووکیٹ اورشریف الدین پیرزادہ کو پرویز مشرف کیس سے علیحدہ ہونے کیلئے دھمکیاں دی ہیں، ان حالات میں کیس کی پیروی نہیں کرسکتے۔ پراسیکوٹراکرم شیخ نے کہا کہ عدالتیں جنگی حالات میں بھی کام کرتی ہیں، ہمیں دہشتگردی کے سامنے جھکنا نہیں چاہئے۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ جان کے خطرے کے باعث اپنا کام نہیں چھوڑسکتے، جتنی زندگی اللہ نے دی ہے،وہ ملے گی۔ جسٹس فیصل عرب نے قرار دیا کہ ججزکے تعصب اورعدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ آئندہ سماعت پرسنایا جائے گا۔ عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت میں احمد رضا قصوری نے کہا کہ انہیں کیس سے الگ ہونے کیلئے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ مشرف کے وکلا کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ گیارہ مارچ کو پرویزمشرف کی پیشی کے موقع پردیکھا جائے گا۔