ضلع تھر پارکر میں کمیونٹی مڈوائفز نے سینکڑوں ماﺅں اور نومولود بچوں کو بچا یا : پروگرام مینیجر ایم این ایچ سندھ

کراچی: ماں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے پروگرام ایم این سی ایچ سندھ کی پروگرام منیجر ڈاکٹر صاحب جان بدر کا کہنا ہے کہ ضلع تھرپارکر میں تعینات کمیونٹی مڈوائفز نے سینکڑوں ماوں اورنومولود بچوں کو دوران زچگی موت کے منہ سے بچایا ہے ورنہ قحط کی موجودہ صورت حال میں ہونے والی اموات کئی گنا زیادہ ہوتیں۔وہاں تعینات صرف 35 کمیونٹی مڈ وائفز نے صرف گزشتہ سال 2013 کے دوران 1600 زچگیاں اپنی نگرانی میں کرائی ہیں جس کی وجہ سے مائیں زچگی کی ممکنہ پیچیدگیوں ، اموات اور نومولود بچے بھی بچ گئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب جان بدر نے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مٹھی میں موجود ہیں اور صورت حال میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تھرپارکر میں سب سے بڑامسئلہ، خوراک، غذائیت اورصاف پانی کی عدم فراہمی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کے ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت تربیت دینے کے بعد 35 کمیونٹی مڈوائفز کو پورے ضلع میں دور دراز گاوں میں تعینات کیا گیا ہے جہاں انہوں نے پورے سال کے دوران 1600 زچگیاں اپنی نگرانی میں کرائی ہیں۔ ان ماوں کو بچے کی پیدائش سے قبل معائنے اور دیکھ بھال کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ ان کمیونٹی مڈوائفز نے 8 ہزار 192 اینٹی نیٹل چیک اپ، 98 پوسٹ نیٹل چیک اپ کیے اور 203 ماوں کو بہتر طبی مرکز کو ریفر کیا۔ ایم این سی ایچ سندھ کی پروگرام منیجر ڈاکٹر صاحب جان نے بتایا کہ ان کمیونٹی مڈوائف ز نے 1407 خاندانوں کو فیملی پلاننگ کی خدمات فراہم کیں جبکہ ٹی ٹی ون ٹیکے کے لیے 171 اور ٹی ٹی ٹو کے لیے 1707ماوں کو قریبی بڑے طبی مرکز بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع تھرپارکر کی 44 یونین کونسلز میں 13 لاکھ سے زائد آبادی رہائش پذیر ہے۔ انہیں ان 35 کمیونٹی مڈ وائف ز سے طبی سہولیات نہیں دی جا سکتیں، ضروری ہے کہ ہر 5 ہزار کی آبادی کے لیے ایک تربیت یافتہ کمیونٹی مڈوائف دستیاب ہو۔ انھوں نے کہا کہ ان کمیونٹی مڈوائفز کی وجہ سے اس ضلع میں دوران زچگی ماوں اور نومولود بچوں کی شرح اموات میں بہت کمی آئی ہے ورنہ موجودہ صورت حال میں یہ اموات کئی گنا زیادہ ہو سکتی تھیں۔ اس بہتر کارکردگی پر کمیونٹی مڈوائفز خراج تحسین کی مستحق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضلع تھرپارکر کے گاوں و دیہات میں پڑھی لکھی حتیٰ کہ میٹرک پاس لڑکی ملنا بھی بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این سی ایچ پروگرام کمیونٹی مڈ وائفز اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے صحت مند بے بی کی خوراک کے لیے بھی کام کرے گا۔