وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ہومیوپیتھی کو فعال بنایا جائے: ڈاکٹر جاوید شاہ

کراچی: پاکستان ہومیوپیتھک فزیشنز سوسائٹی کے چیئرمین اورنیشنل کونسل برائے ہومیوپیتھی پاکستان کے سابق قائم مقام صدر ڈاکٹر جاوید شاہ نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں بیچلر آف ہومیو پیتھک میڈیسن سسٹم کی فیکلٹی کو جلد فعال کیا جائے۔ گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کی کاوشوں کے نتیجے اور ہائیر ایجوکیشن کی منظوری سے چند سال قبل وفاقی اردو یونیورسٹی میں بیچلر آف ہومیو پیتھک میڈیسن سسٹم کی فیکلٹی قائم کی گئی تھی جو اب تک فعال نہیں ہو سکی۔ انھوں نے کہا کہ ہومیو پیتھک طریقہ علاج حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باعث اسے ترقی نہیں مل پائی اور ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کو ملک بھر خصوصا سندھ، بلوچستان اور سرحد میں ملازمتوں کے حصول میں بھی کافی پریشانی کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر جاوید شاہ نے کہا کہ ہومیوپیتھی طریقہ علاج کی تعلیم کو اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں اس فیکلٹی کے فعال ہونے کے بعد معیاری ہومیو ڈاکٹرز پیدا ہوں گے جو لوگوں کو سستا علاج فراہم کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت ملک بھرمیں ڈیڑھ لاکھ ہومیو ڈاکٹرز رجسٹرڈ ہیں اور اگر حکومت تھوڑی دلچسپی لے تو یہ شعبہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید شاہ نے صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں ہومیو پیتھک طریقہ علاج کو فروغ دیں اور چاروں صوبوں کی تمام یونیورسٹیز کو ہدایات دیں کہ وہ ہائیر ایجوکیشن کے منظور شدہ بیچلر پروگرام شروع کریں تاکہ غریب مریضوںکو سستا علاج فراہم ہو سکے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں ہومیو پیتھک فارما انڈسٹری کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے جس سے پاکستان خطیر زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں قدرتی پودوں پر بھی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکے۔