وزیر اعظم ٹی بی کے مریضوں کے لیے فوڈ سپورٹ پروگرام شروع کرائیں: ڈاکٹر عبدالصمد

حیدرآباد: ٹی بی ایسوسی ایشن سندھ کے صدر ڈاکٹر عبدالصمد نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم ٹی بی کے مریضوں کے لیے ‘فوڈ سپورٹ‘ پروگرام شروع کرائیں۔صدر ڈاکٹر عبدالصمد نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ٹی بی کے مریضوں کے لیے بہترین ماحول اور ادویات کے ساتھ ساتھ متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف میں انسانی خدمت کا جذبہ موجود ہے،انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف ہدایت کریں کہ ہر صوبہ میں ٹی بی کے مریضوں کے لیے فوڈ سپورٹ پروگرام شروع کیا جائے تاکہ اس مرض پر قابو پانے میں مدد مل سکے کیونکہ مقومی غذا سے مریض میں قوتِ مدافعت پیدا ہو تی ہے، انھوں نے کہاکہ 24مارچ کو عالمی یومِ تپِ دق کے حوالے سے حیدرآباد میںسیمینار اور واک کا اہتمام کیا گیا ہے واک پیر 24مارچ کو صبح 9بجے پاکستان چوک جم خانہ سے شروع ہو کر حیدرآباد پریس کلب پر اختتام ہو گی ۔انھوں نے کہا کہ ٹی بی کا مرض اب لاعلاج نہیں ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 17لاکھ افراد اس مرض سے عدم واقفیت اور پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں جبکہ ایک سروے کے مطابق ہر سال 90لاکھ افراد ٹی بی کے نئے مریض بن جاتے ہیں ان میں17لاکھ ہلاک ہو جاتے ہیں پاکستان میں ہر سال5لاکھ افراد ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو تے ہیںاور ان میں 68ہزار مختلف وجوہات کی بناءپر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹی بی کی بیماری میں پاکستان کا دنیا میں 7واں نمبر ہے ٹی بی کا ایک مریض ہر سال دس سے پندرہ نئے مریض پیدا کردیتا ہے ان کی عمر یں زیادہ تر15سال سے40سال کے درمیان ہو تی ہیں ۔انھوں نے کہاکہ ٹی بی ایسوسی ایشن سندھ اس مرض پر قابو پانے کے لیے کام کررہی ہے حیدرآباد میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت مریضوں کو ادویات گلوبل فنڈ سے فراہم کی جارہی ہیں اس میں حکومتِ پاکستان کی کارکردگی خراجِ تحسین کے لائق ہے انہوں نے بتایا کہ ایم ڈی آر کے مریض کا ادویات پردوسال خرچ 12لاکھ روپے بنتا ہے کیونکہ یہ ادویات 2سال تک بلاناغہ لازمی کھانا پڑتی ہیں جبکہ غذا کے اخراجات الگ ہیں جو غریب مریض برداشت نہیں کرسکتے ۔