طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے چاہیے: شاہ اویس نورانی

حیدرآباد: جمعیت علمائے پاکستان ( اویس نورانی گروپ) کے سکریٹری جنرل شاہ اویس نورانی نے کہا ہے کہ طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو نے چاہئیں ‘ آپریشن کا نتیجہ ہمیشہ خراب نکلا ہے ۔ پریٹ آباد حیدرآباد میں اپنی جماعت کے صوبائی اجلاس سے خطاب کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ اویس نورانی نے کہاکہ ہم حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اس مرتبہ دونوں طرف سے سنجیدگی دکھا ئی جارہی ہے قوم کی نظریں مذاکرات کی کامیابی پر ہے تاکہ جلدا ز جلد ملک میں امن قائم ہو ،انھوں نے کہاکہ افہام و تفہیم سے مسئلہ کا حل نکلنا چاہیئے بندوق کی نوک پر شریعت نافذ نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی آپریشن سے کبھی اچھا نتیجہ نکلا ہے ،انھوں نے کہاکہ ملک نازک حالات سے گزر رہا ہے بالخصوص سندھ کی حالت تشویشناک ہے جہاں عوام کی جان و مال کی حفاظت میں حکومت ناکام نظر آتی ہے تھر میں جو کچھ حالت ہوئی ہے وہ دنیا کے سامنے ہے کرپشن و بدانتظامی نے وہاں قحط کی صورتحال پیدا کی وہاں اب بھی فنڈز کا ناجائز استعمال ہورہا ہے، اگروہاں فلاحی تنظیمیں نہ ہوں تو حالات مزید خراب ہو جائیں سیلانی ‘ چھیپا‘ ایدھی اور دوسرے فلاحی اداروں نے تھر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا ہے ،انھوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کو مرکز اور صوبہ سندھ میں کئی مرتبہ حکمرانی کا حق ملاہے ،سندھ میں تو یہ مسلسل کئی برسوں سے اقتدار میں ہیں لیکن عوام کو صاف پانی نہیں دے سکے ،عالمی اداروں سے ملا فنڈ بھی یہ کھا گئے انھوں نے حیدرآباد شہر کی حالت پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ جو اس شہر کے سیاسی ٹھیکیدار ہیں انھوں نے مسائل کے سوا حیدرآبادکے عوام کو کچھ نہیں دیا انھو نے کہا کہ جے یو پی کو میرے والد نے منظم کیا لیکن کچھ لوگوں نے اپنی جماعت الگ بنالی ہے جبکہ مجلس عاملہ اور شوریٰ کے اراکین کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے ،انھوں نے کہاکہ ہمارا 29مارچ کو کراچی میں ہو نے والے جلسہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، انھوں نے کہاکہ ہمارے دروازے سب پر کھلے ہیں وہ آئیں تو دوبارہ شامل ہو سکتے ہیں ،نھوں نے کہاکہ آج ہمارا صوبائی سطح کا اجلاس ہوا ہے جس میں تنظیم سازی پر زور دیا گیا ہے ہم رابطہ عوام سے قبل اپنے تنظیمی ڈھانچہ کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں،پریس کانفرنس میں جے یو پی کے صوبائی صدر مفتی ابراہیم ‘ کرامت راجپوت ‘ ابراہیم شیخ اور دیگر بھی موجود تھے ۔