شماریات کو ملک میںتحقیقی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے: بین الاقوامی شماریاتی کانفرنس

کراچی: ڈاﺅ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں جاری تین روزہ بین الاقوامی شماریاتی سائنس کانفرنس آج اختتام پذیر ہوئی۔کانفرنس میں ماہرین اور مقررین نے شعبہ طب میں شماریاتی تحقیق کو ملک میں مختلف بیماریوں پر قابو پانے کی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور کہا کہ اس ضمن میںنہ صرف شماریاتی تحقیق سے بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے بلکہ ملک میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے اور ملکی ترقی کیلئے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔اسلامی ممالک کی تنظیم برائے سوسائٹی آف شماریاتی سائنسز (ائی ایس او ایس ایس )نے پاکستان کو شماریات کے حوالہ سے بین الاقوامی برادری کے برابر لاکھڑا کیاہے ۔یہ کانفرنس ڈاﺅ یونیورسٹی نے اسلامی ممالک کی تنظیم برائے سوسائٹی آف شماریاتی سائنسز ، ہائر ایجوکیشن کمیشن، ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی، فیڈرل اردو یونیورسٹی اور پاکستان سائنس فاﺅنڈیشن کے باہمی اشتراک سے اوجھا کیمپس کراچی میں منعقد کی ۔ کانفرنس میں نیپال، ملائیشیا، چین، قطر اور دیگر مختلف ممالک سے ماہرین اور مقررین نے شمارتی سائنسز پر اپنے مقالوں سے شرکاءکوآگاہ کیا۔تقریب میںماہرین اور مقررین سمیت یونیورسٹی کے فیکلٹی اراکین سمیت طلباو طالبات نے بھرپور شرکت کی۔اس موقع پر ڈاﺅ یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر مسعود حمید خان سمیت دیگر ماہرین نے اظہار خیال کیا۔ پروفیسر مسعود حمید خان نے کہا کہ شماریات کوملک میں پیدائش، اموات، مختلف بیماریوں اور اس پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ تحقیقی سرگرمیوں میں بھی بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔