ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے خاتمے پر سابق کھلاڑیوں اور اداروں کا احتجاج

کراچی: پاکستان میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ڈھانچے سے ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے کردار کو ختم کرنے پر سابق فرسٹ کلا س کرکٹروں،اداروں کے سربراہان اور سیاست دان نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے تحفظات کے بعدپی سی بی کے چیئر مین نجم سیٹھی نے ڈومیسٹک ڈہانچے کا جائزہ لینے کے لیے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے ، جس کے سربراہ چیئر مین پی سی بی کے پرنسپل ایڈوائزر ظہیر عباس ہوں گے دیگراراکین میں انتظامی کمیٹی کے کارکن اور سابق ٹیسٹ کرکٹراقبال قاسم ،شکیل شیخ ،ڈائرکٹر گیم ڈیولپمنٹ اور سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید شامل ہیں۔کمیٹی ڈومیسٹک کرکٹ کو اس وقت درپیش مسائل کا جائزہ لے گی۔فرسٹ کلاس ڈھانچے میں ڈپارٹمنٹس،ریجن ،اور ڈسٹرکٹس کے کردار، ڈھانچے میں بہتری اور پرکشش بنانے کے لئے کمیٹی سفارشات مرتب کرے گی ۔ پی سی بی کے اعلامیے کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے پر ڈائرکٹر ہارون رشید نے نجم سیٹھی اور پی سی بی کی انتظامی کمیٹی کے بعض اراکین کو ایک پریزینٹیشن دی تھی ۔طویل بحث ومباحثے کے بعد نجم سیٹھی نے کمیٹی سے سفارشات طلب کی ہیں۔قبل ازیںپی سی بی نے قومی فرسٹ کلاس کرکٹ میں اداروں کا کردار محدود کرکے ریجنل ٹیموں کی مالی کفالت انھی اداروں سے کرنے کا جو منصوبہ تیار کیا ہے اس پر اداروں نے تحفظات ظاہر کردیے ہیں اور کئی سابق ٹیسٹ کرکٹروں نے بھی اسے ملکی کرکٹ کو تباہی سے دوچار کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔اقبال قاسم نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کو ختم کر نے کا پلان پر عمل کیا تو وہ پی سی بی انتظا می کمیٹی سے مستعفی ہوجائےںگے ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے سابق چیئر مین اقبال محمد علی نے یہ معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔