12مئی پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب ہے: صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر

حیدرآباد: جمعیت علماءپاکستان (نورانی)کے صدر اورملی یکجہتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ 12مئی2007ءکو کراچی کی سڑکوں پر ڈکٹیٹر کی چھتری تلے حکومت مخالف جماعتوں کو دیوارسے لگانے کے لیے خون کی ہولی کھیلنے والوںکو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اس دن حکومتی سرپرستی میں کراچی کی سڑکوں پر جس بیدری اور سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کی تاریخ رقم کی گئی تھی اور اپوزیشن جماعتوں کے 50سے زائد کارکنان سمیت جمعیت علماءپاکستان کراچی کے رہنما مولانا مختیاررضوی کو شہید کیا گیاتھاوہ دل ہلا دینے والے لرزہ خیز واقعات کے نقوش آج بھی قوم کے ذہنوں پرکندا ہیں۔مرکزی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر محمد یونس دانش سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 12مئی پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب ہے جب چیف جسٹس کا راستہ روکنے کے لیے کراچی کی سڑکوں پر تاریخ کی بدترین ریاستی ہشتگردی کا ارتکاب کیا گیا جس کے باعث50سے زائد معصوم بے گناہوں کو موت کی نیند سلا دیا گیااورآج7سال گزرجانے کے بعد بھی سانحہ 12مئی کے قاتل اب تک گرفتار نہیں ہوئے۔ اگر سانحہ 12مئی کے قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچا دیا جاتا تو اب تک کراچی امن کا گہوارابن چکا ہوتا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کیمرے کی آنکھ سے صاف دکھائی جانے والی دہشت گردی کو بھی حکمراں فراموش کر کے اپنے اقتدار کی فکر میںلگے ہوئے ہیں اوردھشت گردوں سے ہاتھ ملا کر عوام کا لہو بہا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سانحہ 12مئی پر عدلیہ کو ازخود کاروائی کرنی چاہئے تاکہ دہشت گردوں کے چہروں سے نقاب اتاری جاسکے ۔انھوں نے کہا کہ جمعیت علماءپاکستان نے ہر دور میں دھشت گردی کے خاتمے اور ملک کو امن کا گہوارابنا نے کےلئے آواز حق بلند کی ہے اگر حکمران واقعی ملک سے دھشت گردی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو وہ کڑوا گھونٹ پینے کے لیے تیار ہو جائیں ۔ انھوں نے کہا کہ 11مئی کی دھاندلی کو بھی میڈیا کے کیمروں کی آنکھ نے دنیا بھر میں بے نقاب کیامگر عوام کے جمہوری حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بجائے جعلی مینڈیٹ کے ذریعہ اسمبلی کا ممبر بنا دیا گیااورایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک الیکشن کمیشن اور ٹربیونل شکایات کا اژالہ نہیں کرسکے ہیں جس سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے ۔