جسقم کی کال پر سندھ کے اکثر اضلاع میں مکمل ،حیدرآباد اور میر پور خاص میں جزوی ہڑتال کی گئی

کراچی : جسقم کے سابق چیئر مین بشیر خان قریشی کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کیخلاف منگل کے روز ہڑتال کی کال پراندرون سندھ کے اکثر اضلاع میں شٹر بنداور پیہ جام ہڑتال کی گئی ۔ اندرون سندھ کے اضلاع لاڑکانہ ،گھوٹکی ،ٹھٹھہ، بدین،خیرپور،جام شورو،کوٹری اور دیگر اضلاع میں جسقم کے سابق چیئر مین بشیر خان قریشی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے خلاف مکمل ہڑتال جبکہ حیدرآباد اور میرپور خاص میں جزوی ہڑتال رہی۔ جئے سندھ قومی محاذ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی کی جانب سے بشیر خان قریشی کی حکومت کی طرف سے جسم کے اجزا کی رپورٹ جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے منگل کے روز ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا جس کی وجہ سے پیر اور منگل کی درمیانی شب سے ہی نامعلوم مسلح افر اد نے حیدرآبادحالی روڈ پر پر ایک ٹرک اور ہٹری کے قریب ایک مسافر وین کو آگ لگادی جبکہ نامعلوم مسلح افراد نے قاسم آباد میں فائرنگ کرکے ایک شخص کو زخمی کردیا، منگل کی صبح قاسم آباد،سٹیزن کالونی،حسین آباد،جامشورو ،کوٹری میں مکمل شٹربند اور پیہ جام ہڑتال کی گئی ان علاقوں میں تمام پیٹرول پمپ ،سی این جی پمپ اوار نجی اسکول بند رہے جبکہ علاقے میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعنیات کی گئی تھی تاہم حیدرآباد اور لطیف آباد کے بڑے بازار کھلے رہے اورٹریفک بھی معمول کے مطابق چلتی رہی جبکہ گل سینٹر اور چاندی بازار بند رہے ،دوسری جانب ہڑتال کے سبب لمس،سندھ یونیورسٹی اور مہران یونیورسٹی کی پوائنٹ بسیں نہیں چل سکی جس کے سبب طلباءجامعات میں نہیں پہنچ سکے اورتدریسی عمل معطل رہا۔ خیرپور میں بھی جزوی ہڑتال کی گئی ،کاروبار ی سرگرمیاںدوپہر بارہ بجے سے بحال ہوگئیں۔ ضلع بدین کے متعدد شہروں میں کاروباری مراکز بند رہے ، سڑک پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر رہی ، بعض علاقوں سے فائرنگ اور مشتعل افراد کی جانب سے ٹریفک کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ،تعلیمی اداروں اور سرکاری محکموں میں طلباءکی حاضری بہت کم رہی ،ٹریفک معطل ہونے سے اندرون سندھ سفر کے معمولات بھی متاثر ہوئے ، حیدرآباد ،بدین ،گلارچی ،مٹھی ،ڈگری اور دیگر مقامی روٹ پر سفر کرنے والے مسافر شدید پریشانی کا شکار رہے ۔ گھوٹکی کے چھوٹے بڑے شہروں ڈھرکی ،اوباڑو،میرپور ماتھیلو و دیگر شہر وں کے چہوٹے بڑے تمام کاروباری مراکز سرکاری و نجی ادارے اور سرکاری و غیر سرکاری اسکولز صبح سے ہی بند رہے ،پیٹرول پمپ اور CNG اسٹیشن بھی بند رہے ۔ کسی بھی ناخوشگوارواقعہ سے نمٹنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، پولیس موبائلیں وقفہ وقفہ سے شہرمیں گشت کرتی نظر آئیں، کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تاہم ڈھرکی میں دوکانیں بند کرانے پر جسقم کے کارکنوں اور دوکانداروں میں تصادم کے نتیجے میں ایک کارکن رفیق حیدر شر زخمی ہو گیا جس کو سول اسپتال میں داخل کرایا گیا ۔لاڑکانہ میں بھی دوسرے اضلاع کی طرح شٹر بند ہڑتال کی گئی ، مارکیٹیں ،بازاراور پٹرول پمپ بند رہے،ٹریفک کا نظام بھی معطل رہا ،اسکول اور کالج بھی بند رہے ۔ جسقم کے کارکنوں کی جانب سے لاڑکانہ میںاحتجاجی ریلی نکا لی گئی، پولیس اوررینجر کی جانب سے سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے ،احتجاج کر نے والے تین کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔خیر پور کے تمام علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی ،کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔