ماہرِ لسانیات و غالبیات اور محقق رفیق احمد نقش کی 11ویں برسی منائی گئی

کراچی(پی پی آئی)ماعمدہ شاعر،ماہرِ لسانیات و غالبیات اور محقق رفیق احمد نقش کی 11ویں برسی منائی گئی اور ان کے مداحوں نے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔ رفیق احمد نقش 15 مارچ 1959 کو میر پور خاص میں پیدا ہوئے اور15 مئی 2013 کو دنیا سے رخصت ہوئے وہ کراچی کے محمد شاہ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ان کی تاریخ وفات بشیر عنوان نے ”کاغذی ہے پیرہن“ سے نکالی ہے جو ان کی لوح مزار پر کندہ ہے.پی پی آئی کے مطابق وقت وفات ان کی عمر54 تھی اس وقت تک وہ ایک اعلیٰ استاد اور  ماہر لسانیات مانے جاچکے تھے. اب اپنے وسیع مطالعے اور تحقیق کو دوسروں تک پہنچانے کا وقت تھا،ان کی رحلت پرشکیل عادل زادہ نے کہاتھا، رفیق نقش کی موت سے اردو کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ لوگوں کو اس کا احساس نہیں ہے، یہ میں جانتا ہوں۔ وہ لسانیات کے آدمی تھے۔ مجھے جب کسی لفظ کے بارے میں معلوم کرنا ہوتا تو میں فون کرکے پوچھتا تھا کہ استاد یہ لفظ کس طرح ہے، وہ بتا دیا کرتے تھے۔اْنھیں کتابوں سے جنون کی حد تک عشق تھا اوراْن کا نجی کْتب خانہ کراچی کے چند اہم کْتب خانوں میں شْمار ہوتا ہے جس میں دس ہزار کتابیں ہیں.  ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش نے “رفیق احمد نقش: افسانوی کردار، مثالی کردار” کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی ہ. ایک رسالے نے خصوصی نمبر بھی نکالارفیق نقش کی تصانیف  بھی زیادہ غالب پر ہیں: نامہ ہائے فارسیِ غالب،رموزِ غالب،مآثرِ غالب،تصحیح و تحقیقِ متن،غالب کی اردو نثر اور دوسرے مضامین،نوادرِ غالب،غالب شناس مالک رام،غالبیات کے چند فراموش شدہ گوشے،اردو کے ضرب المثل اشعار،ایم ایف حسین کی کہانی، اپنی زبانی،یادِ ایام،مصطلحات الشعرا

Latest from Blog