مغربی افریقی ملک برکینافاسوکی پارلیمنٹ کو مشتعل افراد نے آگ لگا دی

اواگیڈوگو: برکینا فاسو میں صدر بلیسو کمپاﺅرے کی جانب سے اپنی حکومت کی مدت میں اضافے کے منصوبے کے خلاف ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے پارلیمنٹ کی عمارت کو آگ لگا دی جبکہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق مغربی افریقا کے ملک برکینا فاسومیں ہزاروں مظاہرین نے سخت سیکورٹی کا حصار توڑتے ہوئے پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا اور اسے آگ لگا دی جبکہ اس کے بعد مظاہرین نے سرکاری ٹی وی کی عمارت پر بھی حملہ کر کے عمارت میں توڑ پھوڑ کی، مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت کو آگ لگانے سے پہلے اس میں موجود کمپیوٹر اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا ۔ دوسری جانب برکینا فاسو کے صدربلیسو کمپاﺅرے نے اپنی حکومت کی مدت میں توسیع کے منصوبے کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے لیکن مظاہرین کا مطالبہ ہے صدر فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔ واضح رہے کہ برکینافاسو پارلیمنٹ میں کل موجودہ حکومت کی مدت میں توسیع کے حوالے سے ووٹنگ ہونا تھی جس میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں 1987 سے اقتدار پر قابض صدر کو مزید توسیع دینے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کا امکان تھا تاکہ صدر آئندہ انتخابات میں بھی حصہ لے سکیں، صدر بلیز کمپا ؤرے نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اعلان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے27سالہ اقتدار چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے،تاہم انھوں نے کہا کہ وہ جمہوری طور پر منتخب کردہ صدر کی تقرری تک کے لیے عبوری حکومت کے دورپر بات چیت کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔