آرٹس کونسل میں احمد امتیاز کے شعری مجموعے ”وہم و گماں ہونے سے پہلے“ کی رونمائی

کراچی5فروری (پی پی آئی) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام معروف شاعر احمد امتیاز کے شعری مجموعے ”وہم و گماں ہونے سے پہلے“ کی تقریب رونمائی حسینہ معین ہال میں منعقد کی گئی۔ تقریب کی صدارت عباس رضوی نے کی جبکہ معروف شاعرہ شاہدہ حسن نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں ناصر شمسی، زاہد حسین جوہری، احمد شکیل اور رخسانہ صبا نے اظہار خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض شہاب الدین شہاب نے انجام دیے۔ صدرِ تقریب عباس رضوی نے کہا کہ میں نے احمد امتیاز کے بہت سے اشعار سنے تھے لیکن انہیں کتابی شکل میں دیکھ کر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے، ”وہم و گماں ہونے سے پہلے“ شعری مجموعہ مبارکباد کا مستحق ہے۔میر درد، انشا میر سوز اپنے عہد کے درویش شاعر تھے اور اردو شاعری کے اس قافلے میں جگر مراد آبادی بھی شامل تھے۔ احمد امتیاز بھی اسی زنجیر کی ایک اہم کڑی ہیں جو اپنے دکھوں کا اظہار شاعری کے ذریعے کرتے ہیں۔ مہمانِ خصوصی شاہدہ حسن نے کہا کہ احمد امتیاز ایک حساس شاعر ہیں، الفاظ جب درد، ملال اور اشک سے گزر کر آتے ہیں تو اس طرح کے اشعار تخلیق ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات اور اپنی ذات سے جڑی یادوں کو اس کتاب میں تحریر کیا ہے۔ لوگ اپنی ہی آگ میں جل کر دھواں ہو جاتے ہیں اور ان اشعار کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اپنے آپ سے خود کلامی کر رہا ہے جو کہ ایک مشکل کام ہے۔ احمد امتیاز زندگی کی سفاک حقیقتوں سے آشنا ہیں۔ ان کی شاعری میں اداسی اور تنہائی ضرور ہے لیکن ناامیدی نہیں ملتی۔ ان کے الفاظ کا چناو ¿ بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ رخسانہ صبا نے کہا کہ احمد امتیاز کا شعری مجموعہ اردو ادب میں بہترین اضافہ ہے، ان کی کتاب پڑھ کر ذہن اور دل متضاد کیفیات اور احساسات سے دوچار ہوجاتا ہے۔ احمد امتیاز کی شاعری میں رنج و وصال کے قصوں کے بجائے انسان کی مفلسی کا ذکر بھی ملتا ہے،ان کی شاعری نے معلوم سے نامعلوم تک کا سفر کیا ہے۔ عشق، رزق اور رشتے انسان کو قید رکھتے ہیں جبکہ وقت کی رفتار عمر کی خواہشات کو ختم کر دیتی ہے۔ شاعر نے ذات اور کائنات کا تصور شاعرانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ احمد شکیل نے کہا کہ احمد امتیاز دورِ حاضر کے عظیم شاعر ہیں ان کی شاعری کا مرکز دکھ ہے۔ زاہد حسین جوہری نے کہا کہ یہ کتاب ایک تخلیقی کتاب ہے۔ انہوں نے کتاب کو عمارت سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ عمارت بظاہر بے جان ہوتی ہے لیکن جب کوئی اس میں رہنا شروع کرتا ہے تو وہ زندہ محسوس ہونے لگتی ہے، اسی طرح کتاب تب تک بے جان ہوتی ہے جب تک قاری اسے پڑھ نہ لے اور جیسے ہی قاری اسے پڑھنا شروع کرتا ہے وہ زندہ ہو جاتی ہے اور باتیں کرنے لگتی ہے۔ اس کتاب میں جگہ جگہ اشعار میں احتجاج نظر آتا ہے۔ ناصر شمسی نے کہا کہ احمد امتیاز کے شعری مجموعے میں احساسات کا گہرا ذکر ملتا ہے اور نفسیاتی حوالوں کا تذکرہ اس کتاب کی خاصیت ہے۔شاعر احمد امتیاز نے کہا کہ مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میں اچھا شاعر ہوں، لیکن رخسانہ صبا نے مجھے اس حقیقت کا احساس دلایا۔ مجھے کتاب چھپوانے کا بھی اندازہ نہیں تھا۔ کچھ لوگ روشنی کے ساتھ اس دنیا میں آتے ہیں اور ساری زندگی روشنی میں سفر کرتے ہیں لیکن میں سیاہ بخت ہوں جو اندھیرے کے ساتھ اس دنیا میں آیا۔ میں دورِ تقسیم میں پیدا ہوا، جب قتل و غارت عام تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے اندر شاعری کا رجحان کہاں سے آیا لیکن مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

گورنرسندھ نے جے ڈی سی کے زیر اہتمام ”اپنی لیب“ کا افتتاح کردیا

Wed Feb 5 , 2025
کراچی5فروری (پی پی آئی)گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے جے ڈی سی کے زیر اہتمام ”اپنی لیب“ کا افتتاح کردیا۔افتتاح سے قبل ”اپنی لیب“ کے حوالہ سے متعلقہ حکام نے گورنرسندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ا س لیب میں انتہائی کم قیمت پر ٹیسٹ ہوں گے، جس سے متوسط بالخصوص غریب افراد کو فائدہ حاصل ہوگا جبکہ سٹی اسکین، […]