‫ڈومینیکا نے شہریت بذریعہ سرمایہ کاری فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے نئے پرائمری اسکول کی تعمیر شروع کردی

لندن ، 22 جون ، 2021 / پی آر نیوز وائر / — حکومت ڈومینیکا نے مہاؤٹ پرائمری اسکول کی تعمیر کے آغاز کے موقع پر جزیرے میں حال ہی میں ایک تقریب کے انعقاد کے موقع پر تعلیم کے شعبے سے متعلق اپنے عزم کی تجدید کی ہے۔ تکمیل کے بعد ، اسکول  کی جانب سے مقامی بچوں کے لئے نئے مواقع  کے اعلان کی توقع کی جاتی ہےجبکہ اساتذہ اور انتظامیافراد کو ملازمتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ خاص طور پر ، اس منصوبے کو ڈومینیکا کی شہریت بذریہ  سرمایہ کاری (سی بی آئی) پروگرام کے ذریعے مالی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ یہ جزیرے کے مختلف شعبوں میں قومی ترقیاتی اقدامات کو تعاون کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

پچھلے کچھ سالوں میں ، ڈومینیکا کے سی بی آئی پروگرام نے بیرون ملک طلبا کی تعلیم کی سرپرستی کرنے ، طلباء کے ساتھ ٹیوٹرز رکھنے اور 2017 میں سمندری طوفان ماریہ سے تباہ ہونے والے 15 اسکولوں کی بحالی کے لئے تقریبا 26 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ پرائمری اسکول کی تقریب کے دوران وزیر اعظم روزویلٹ اسکیریٹ نے واضح کیا کہ ان کی حکومت جزیرے پر سیکنڈری تعلیم کو 100 فیصد قابل رسائی بنانے ، ڈومینیکا اسٹیٹ کالج کی تعمیر کرنے کی ذمہ دار ہے اور  اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ یونیفارم اور نصابی کتب کے ساتھ ٹرانسپورٹ بھی باآسانیدستیاب ہو۔

وزیر برائے تعلیم ، آکٹویا الفریڈ نےکہا: “یہ حکومت طلباء ، اساتذہ اور انتظامیہ کے سکون کو یقینی بنانے کے لئے اپنے اسکول کے منصوبوں کی بہتری کے لئے بھاری سرمایہ کاری جاری رکھے گی۔ اساتذہ اور طلبہ کے لئے مناسب جگہ ، مناسب ہوا ، روشنی ، پانی ، بجلی اور انٹرنیٹ سروس جیسی تمام سہولیات سیکھنے کے ایک ماحول کی تشکیل میں معاون ہیں  جہاں طلبا ترقی کرسکیں۔ “

1993 میں بنایا گیا، ڈومینیکا کا سی بی آئی پروگرام ملک کی پائیدار ترقی کے لئے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس نے نہ صرف تعلیم میں اپنا کردار ادا کیا ہے ، بلکہ صحت سے متعلقاقدامات میں  بھی تعاون کیا ہے ، جن میں ایک جدید ترین اسپتال ، متعدد صحت مراکز ، سمندری طوفان سے محفوظ مکانات اور ماحول دوست ریزورٹس اور ولا زشامل ہیں۔ یہ امر جزیرے کے دنیا کی پہلی آب و ہوا سے مزاحمقوم بننے کے عزم کی تائید کرتاہے ، ایک ایسی کامیابی جس کا اعلان وزیر اعظم اسکیریٹ نے اقوام متحدہ میں 2017 میں کیا تھا۔

اپنے اور اپنے خاندان کے لئےایک محفوظ اور مستحکم منزل کے متلاشی سرمایہ کاروں کے لئے ، ڈومینیکا کا سی بی آئی پروگرام دوسری شہریت کے لئے ایک قابل اعتماد راستہ پیش کرتا ہے جسے سالانہ سی بی آئی انڈیکسجیسے  آزاد مطالعے نے بین الاقوامی سطح پر سراہا ہے۔ درخواست دہندگان کو جزیرے کا شہری بننے کے لئے ، اگر وہ ضروری حفاظتی چیک پاس کرلیتے  ہیں،صرف ملک کے اکنامک ڈائورسیفکیشن فنڈ میں معاشی شراکت کرنے یا پری-اَپرُووڈریئل اسٹیٹ خریدنے کی ضرورت ہے ۔

ایک بار شہری بننے کے بعد ، سرمایہ کار140 سے زائد مقامات ، متبادل کاروباری امکانات اور  ایک مستحکم جمہوریت میں دوسرے گھر تک اضافی سفری آزادی اور یونائیٹڈ اسٹیٹس اور یونائیٹڈ کنگڈم جیسے بڑے مراکز کے ساتھ تعلقات تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔

رابطہ کیجئے:
+447867942505

pr@csglobalpartners.com
www.csglobalpartners.com

‫2021 ایس سی او انٹرنیشنل راؤنڈ ٹیبل کا جیانگسو کے لیان ینگانگ میں انعقاد

لیان ینگانگ، چین، 19 جون، 2021 / شنہوا۔ ایشیا نیٹ /– 18 جون، 2021ء کی سہ پہر کو شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) بین الاقوامی راؤنڈ ٹیبل کا کامیابی کے ساتھ جیانگسو صوبے کے شہر لیان ینگانگ میں انعقاد ہوا۔ اس کانفرنس کا انعقاد ایس سی او کے سیکریٹریٹ اور لیان ینگانگ میونسپل عوامی حکومت نے کیا تھا، جس کا مرکزی خیال “معیشت اور تجارت میں بین الاقوامی تعاون میں  اضافہ، اور ایس سی او کے ممبر ممالک میں تجارتی برآمدات اور درآمدات میں سہولت کاری  کا فروغ” تھا۔
ایس سی او سیکریٹریٹ اور ایس سی او کے ممبر ممالک ، مبصر ممالک، اور ڈائلاگ کے شراکت دار ممالک کے متعلقہ عہدیداروں نے “آن لائن + آف لائن” کی صورت میں اجلاس میں حصہ لیا۔  یہ اجلاس لیان ینگانگ شہر کے میئر فینگ وی کی زیر صدارت ہوا۔ ایس سی او  سکریٹریٹ کے سکریٹری جنرل ولادیمر نوروف ، جیانگسو صوبے کے نائب گورنر ھوئی جیانلن، اور سی پی سی لیان ینگانگ میونسپل کمیٹی کے سکریٹری ژیانگ ژیونگ نے خطاب کیا۔

نیو یوریشین کانٹی نینٹل برج اکنامک کوریڈور میں بیلٹ اینڈ روڈ انٹرسیکشن کے لئے ایک مضبوط لاحقے اور اہم مقام رکھنے والے  شہر کی حیثیت سے، لیان ینگانگ  نے دونوں اطراف کھلنے والی کھڑکی اور تبادلوں کے سمندری مقام والے اہم مرکز کا کردار سنبھال لیا ہے۔ حالیہ برسوں میں ، ایس سی او کے ممالک کی بھرپور معاشی ترقی اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر بھرپورعمل درآمد کے ساتھ ، لیان ینگانگ ایس سی او کے بیرون ملک اڈے اور چین-قازقستان لاجسٹکس آپریشن بیس کی تعمیر کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ تعاون کے ثمرات اور نمائش کے اثرات بڑے پیمانے پر کاروبار کے حصول کا باعث بنے ہیں۔

ایس سی او  کی پہلی گول میز کے تعاون کے نتائج کی بنیاد پر ایس سی او  کے اصل مقصد ، طویل مدتی ترقیات کو بین الاقوامی صنعتی تعاون اور خصوصی مصنوعات کی تجارت کے داخلی مقام کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، اس سال کے اجلاس کا مقصد نئے رجحانات اور نئے آئیڈیاز، نئی جوابی تدابیر کی تلاش، اور بین الاقوامی لاجسٹکس تعاون کے تعلقات میں باہمی احترام، باہمی تعاون، اور سب کے لئے یکساں تعاون کی تعمیرہے۔

شرکاء نے کوویڈ-19 سے لڑنے اور اس کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے میں ایس سی او کے رکن ممالک میں لیان ینگانگ کی اہم شراکت کو تسلیم کیا ، اور لیان ینگانگ بندرگاہ کی زبردست ترقیاتی استعدادکا مشاہدہ کیا، اور یہ سمجھ لیا کہ شہری رسد اور صنعتی گروہوں کو زیادہ فعال طور پر استعمال کیا جانا چاہئے۔  اس کا مقصد  ایس سی او فری ٹریڈ زون میں کثیرالجہتی تعاون اور تبادلے کو مستحکم کرنا ، اور قومی حکمت عملی اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے فریم ورک کے تحت بین الاقوامی سامان کی نقل و حمل ، ٹرانسشپمنٹ اور پروسیسنگ میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

مزید تفصیلات کے لئے ، براہ کرم  ملاحظہ کیجئے 
http://www.scoilp.gov.cn/Default.aspx?mpid=10

ماخذ: لیان ینگانگ میونسپل عوامی حکومت

‫ایکس سی ایم جی نے جغرافیائی خصوصیات کے مطابق تیار کردہ کرینوں کے 100 سے زائد یونٹ بین الاقوامی صارفین کو فراہم کیے

زوزہو ، چین ، 16 جون ، 2021 / پی آر نیوز وائر / – ایکس سی ایم جی (SHE: 000425) نے 7 جون کو 50 سے 260 ٹن تک کی کرینوں کے 100 سے زائد یونٹ بیرون ملک منڈیوں کو فراہم کیے جو مختلف انفراسٹرکچر منصوبوں میں کام کریں گے۔

ایکس سی ایم جی نے مختلف علاقوں کی آب و ہوا اور آپریشن کے پس منظر کے ساتھ ساتھ صارفین کی مخصوص ضروریات کے مطابق کرینوں کو خصوصی طور  پر تیارکرکےاور زیادہ بہتر بنا دیا ہے۔

مشرق وسطی میں، گرم صحرائی آب و ہوا میں بلند درجہ حرارت اور گرد وغبار کے خلاف مزاحمت رکھنے والی  کرین کی ضرورت ہوتی ہے، اور ایکس سی ایم جی کرینیں اپنی  اعلی موافقت اور قابل اعتماد  کارکردگی کے لئے وسیع  ترین  مارکیٹ شیئر کی حامل ہیں۔ مثال کے طور پر، گرمی میں مقامی درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے ، لہذا ایکس سی ایم جی نے ہائیڈرولک نظام کو 60 ڈگری کے معیار کے مطابق  بہتر بنا دیا ہے جس سے ان کے کام کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہو گیاہے۔

دریں اثنا، وسطی ایشیاء کی سرد آب و ہوا کے دوران عمومی آغاز کو یقینی بنانے کے لئے ایسی کرینوں کی ضرورت ہوتی ہے جو انجن کو جلدگرمکرنے  کی خصوصیات رکھتی ہوں، اور ان کے چیسس ڈیزائن کو ہر طرح کی حالت کی سڑکوں کے مطابق کھینچنے کی بھاری طاقت کا حامل اور گرفت قائم رکھنے والا ہونا چاہئے۔

آسٹریلیائی صارفین کے لئے، ایکس سی ایم جی نے سلنڈرز کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا ہے اور اسکیلنگ فنکشن میں اضافے کے لئے ایکؤپمنٹ کو ری پروگرام کیا ہے جس نے اسے پیچیدہ ماحولیاتمیں بوجھ کو بلندی  تک لے جانےکے قابل بنادیا ہے۔

ایکس سی ایم جی کے آن سائٹ ایکسپرٹ کے مطابق، بیرون ملک تعمیراتی مشینری مارکیٹوں میں بہت ہی سخت طلب کے باوجود ، ایکس سی ایم جی نے اپنی عالمی ترقیاتی حکمت عملی کو ثابت قدمی کے ساتھ فروغ دیا اور اسکیل سے لے کر ٹکنالوجی تک بڑے پیمانے پر  قیاد ت منتقلی کی تکمیل کرتے ہوئے، اب وہ2,000سے زیادہ تکنیکی مالکانہ حقوق (ٹیکنیکل پیٹنٹ)کی مالک ہے، جو ہماری مضبوط ترقی کی صلاحیت کا مظہرہے۔

ایکس سی ایم جی گاہکوں کے لئے بہتر مصنوعات لانے کے لئے تعمیراتی مشینری کی ٹیکنالوجیز میں مسلسل جدت لا رہا ہے۔ مئی میں، ایکس سی ایم جی نے آٹھ نئی کرین مصنوعات لانچ کیں جن کو مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ معروف جی آئی (GI)جنریشن پلیٹ فارم کی بنیاد پر تیار کردہ ، نئے ماڈل اپنی اعلی کارکردگی، درستگی، پرُاعتمادی، توانائی کی بچت اور قدر کے باعثانڈسٹری کی توجہ کے مرکز بن گئے ہیں۔

گذشتہ برسوں کے دوران ، ایکس سی ایم جی نے مختلف انفرا اسٹرکچرز کی تعمیر کو فروغ دینے کے لئے بیرون ملک متعدد بڑے تعمیراتی منصوبوں میں حصہ لیا ، جس میں دنیا کا ‘سب سے بڑا آئل ریفائنری’ پراجیکٹ ڈانگوٹ ریفائنری، بنگلہ دیش میں پدما ریل برج، انڈونیشیا کے صوبہ سولاوسی میں بڑے پیمانے کا نکل-آئرنپراجیکٹ،جبکہ دیگر منصوبوں میں قطر کا دوحہ-دَکھن ایکسپریس وے شامل ہے۔

ایکس سی ایم جی کے بارے میں

ایکس سی ایم جی ایک ملٹی نیشنل ہیوی مشینری مینوفیکچرنگ کمپنی ہے جس کی 78 سالہ تاریخہے۔ اس وقت یہ دنیا کی تعمیراتی  مشینری کی صنعت میں تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ کمپنی دنیا بھر کے 187 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں برآمدات کرتی ہے۔

‫شیحے: دنیا کے ساتھ ’’چائے کی زبان ‘‘کے ذریعے بات چیت

ژنیانگ،چین،12جون 2021/ژن ہوا-ایشیانیٹ /  9جون کو مختلف ممالک کے سفارتکاراور صحافی’’سلک روڈ پر چائے کی پیداوار کےحسین ترین گاوٗں کے بارے میں جاننے کے لیے‘‘ایک سفر پر روانہ ہوئے۔ضلع شیحے کے کلچر،ریڈیو اور ٹیلی ویژن اور سیاحت کے ادارے کے مطابق،وہ صوبہ ہینان میں،ژنیانگ شہر کے ضلع شیحے چینی چائے کے راز جاننے کے لیے تشریف لائے۔2021کے پہلے چار مہینوں میں،تین ’’چین-یورپ ایکسپریس‘‘ریل گاڑیاں ،جو ژنیانگ کی چائے سے بھری تھیں،نےجدید سلک روڈ کے ذریعےیورپ اور ایشیا کا سفر کیا۔سلک روڈ پر خوبصورت چائے کی پیداوار کے گاوٗ ں کے بارے میں جاننا

چین میں پرتگالی سفیر جناب جوزے اگسٹو ڈوارٹے کا کہنا تھا کہ پرتگال پہلا یورپی ملک ہے جس نے چینی چائے متعارف کرائی۔16ویں صد مین،پرتگالی کاروباری چینی جائے کو ملک میں لے کر آئے۔یہ اتنی مہنگی تھی کہ صرف امرا ہی اس سے لطف اٹھا سکتے تھے۔آج،بھی چائے پینا ایک نفیس طرز زندگی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حسین جگہ ہے،لوگ خوبصورت ،جذبے سے بھر پور ،پر اعتماد،اور خوش ہیں۔

چین میں جنوبی کوریا کے کونسل خانے کے وزیر جناب جینگون کم کا کہنا تھا ‘‘چائے جنت اور زمین کا ایک تحفہ ہے۔چائے پینا صحت اور درجہ حرارت کے لیے اچھاہے۔’’ان کی زوجہ محترمہ جونگیونگ پارک جوچائے کی چانچ کی ایسویشن کی رکن ہیں اور بیشتر اوقات چائے سے متعلقہ سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہتی ہیں،ان کا کہنا تھا ‘‘ہم چین سے چائے کی ایک بڑی مقدار درآمد کرتے ہیں۔’’انھوں نے چائے کی پتیوں کو الگ کرنے اور انھیں بھوننے کے طریقہ کار کا تجربہ کیا،اور ژنیانگ ماوجیان کاریگری ,قومی ثقافتی ورثے کے وارث ژیاوٗ جونجنگ کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

دولت مشترکہ بہاماس کے سفیر جناب رابرٹ قوانٹ چائے کی کاشت سے متاثر ہوئے۔ان کا  کہنا تھا ‘‘میں اپنے دوستوں کو بتاوٗ ں گا کہ یہ سب کتنا خوبصورت ہے اور انھیں یہاں کے دورے کے لیے قائل کروں گا۔’’

ژنیانگ کے نائب میئر جناب ژہائی ژیاوٗ بن نے چینی اور غیر ملکی مہمانوں کا گرم جوشی سے استقبال کیا ،اور چائے کے ذریعے تبادلہ خیال اور تعاون کو فروغ دیا۔

صرف سرسبز پہاڑ اور شفاف دریا اچھی چائے پیدا کرسکتے ہیں۔شیحے جنوب اور شمال کو جدا کرنے والی لائن پر واقع ہے،جس کے جنگلات کے رقبے کا تناسب 70%ہے۔یہ چین کا دورافتاد پسماندہ علاقہ ہے،جہاں جنگلات اور دریاوٗں کے کے درمیان جگہ جگہ گاوٗں ہیں ،جو آرام وسکون کی عکاسی کرتاہے۔اس سے ملحقہ چائے کی 100,000ایکڑ پر مشتمل کاشت کاری کے ساتھ،یہ علاقہ ژنیانگ ماوٗجیان چین کے’’ٹاپ کے دس مشہور چائے‘‘کے  پیداوار کا اہم علاقہ ہے۔ہاوٗجی شونگ گاوٗں خوبصورت دیہاتی علاقے کا نمائندہ ہے۔دیہاتی نسلوں سے چائے کی کاشت کررہے ہیں۔

ذریعہ : شیحے کا کلچر،ریڈیو اور ٹی وی اور سیاحت کا ادارہ

تصاویر :http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=393641

افتتاحی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان

شهد برج خليفة، المبنى الأطول في العالم، عرض مميز أطلق رسميا في الشرق الأوسط العلامة الأولى والوحيدة في العالم التي تقدم جميع منتجات العناية بلحية الرجل

دبى، الامارات العربية المتحدة 7يونيو / حزيران 2021/PRNewswire/ — شهدت دبي الإطلاق الرسمي على المستوى الاقليمي لـ كينج سي جيليت، العلامة الأولى والوحيدة في العالم التي تقدم كل ما يحتاجه الرجل للعناية باللحية، من خلال عرض مرئي على برج خليفةمؤخرا. تقدم كينج سي جيليت، محفظة متكاملة ومتنوعة من الأدوات ومنتجات مخصصة للحية الرجل تندرج تحت ثلاث فئات: حلاقة، تشذيب وعناية – جميعها مصممة خصيصاً لتمكين الرجال من تعزيز أناقتهم والاهتمام بلحيتهم وإتقان روتين العناية بشعر الوجه، مهما اختلفت أشكاله وطبيعته.

KCG_full_line_up

وبهذه المناسبة قال طارق عبد العزيز المدير الأول ورئيس العمليات التجارية عبر منطقة الشرق الأوسط وأفريقيا لمنتجات الحلاقة الرجالية، لدى بروكتر آند جامبل: “يسعدنا إطلاق كينج سي جيليت، العلامة المخصصة للعناية باللحية، والتي طال انتظارها في جميع أنحاء المنطقة. يختلف مظهر الرجال عما كانوا عليه قبل 10 سنوات، فقد تطورت أنماط العناية بشعر الوجه والحلاقة وأصبحنا نشهد توجهات جديدة في هذا المجال. ففي الواقع، أظهرت دراساتنا زيادة في إقبال الرجال على تنمية اللحى في جميع أنحاء العالم لكونها ترمز للرجولة، حيث يربي 66% من الرجال العرب و 55% من الرجال الآسيويين لحيتهم في الإمارات العربية المتحدة على سبيل المثال. وكرواد في مجال الحلاقة الرجالية، فإننا نفخر بتقديم العلامة الأولى والوحيدة في العالم في منطقة الخليج والشرق الأوسط التي توفر مجموعة شاملة لجميع المنتجات المتخصصة في العناية بالبشرة واللحية.”

وتحيي هذه العلامة، التي ترتكز على 115 عاماً من الابتكارات في عالم الحلاقة الرجالية، والمسماة تيمناً بمؤسس الدقة في عالم الحلاقة كينج كامب جيليت  King Camp Gillette، خبرة قرن من الزمان من خلال مجموعة كاملة ومتنوعة من الأدوات ومنتجات العناية بالوجه واللحية. وتشمل محفظة المنتجات التي توفرها العلامة العصرية، زيت العناية باللحية وبلسم تنعيم اللحية وغسول اللحية والوجه وجل الحلاقة الشفاف وماكينة حلاقة منطقة الرقبة وشفرة سلامة مزدوجة الحواف وأداة حلاقة وتحديد اللحية، بالإضافة إلى ماكينة تشذيب

KCG_Burj_Khalifa

اللحية.

تم تطوير منتجات العناية بالبشرة واللحية باستخدام مكونات طبيعية مثل الأفوكادو وزيت الأرغان وزبدة الكاكاو ومستخلص الشاي الأبيض وغيرها من أفضل المواد المستخدمة في هذا المجال. وتتميز منتجات كينج سي جيليت للعناية باللحية والبشرة بعطرها المميز، والذي طوره فريق عطور متخصص بالتعاون الوثيق مع دار عطور دوليةومجموعة واسعة من أصحاب الخبرة في عالم الموضة وصيحاتها العصرية. فصمّم العطر المميّز لاستحضار قصّة العلامة التجارية من حيث التاريخ والتراث، ومزجها بمفاهيم الرجولة المعاصرة مع نفحات عليا من عبق الهيل والزنجبيل، ونفحات وسطى من الخزامى وزيت البوربون، ونفحات أساسية يمتزج فيها عبير الباتشولي وخشب الصندل.

https://mma.prnewswire.com/media/1526979/KCG__Tarek_Abdelaziz.jpg

وتتوفر منتجات كينج سي جيليت الآن في متاجر السوبرماركت الكبرى ومنصات التجارة الإلكترونية الرائدة في المملكة العربية السعودية والإمارات العربية المتحدة وسلطنة عمان وقطر بأسعار ملائمة للجميع، كما ستتوفر على نطاق واسع في أسواق أخرى عبر منطقة الشرق الأوسط قريباً.

لمزيد من المعلومات حول المجموعة الكاملة من منتجاتKing C. Gillette ، يرجى زيارة: https://www.gillettearabia.com/en

https://www.instagram.com/kingcgillette_arabia/

نبذة عن “جيليت”
 منذ أكثر من 115 عاماً، قدمت علامة “جيليت” أداءً لا يضاهى على صعيد التقنيات الدقيقة والمنتجات في عالم الحلاقة الرجالية – مما أدى إلى تحسين حياة أكثر من 750 مليون مستهلك حول العالم. بدءاً من حلاقة الوجه والجسم، ووصولا إلى العناية بالبشرة والحماية من التعرّق، تقدّم “جيليت” مجموعة واسعة من المنتجات مثل الشفرات وجل الحلاقة (جل ورغوات وكريمات)، ومستحضرات العناية بالبشرة وبعد الحلاقة، ومستحضرات مقاومة التعرّق وغسل الجسم. للاطّلاع على المزيد من المعلومات وأحدث الأخبار حول “جيليت”، يرجى زيارة الموقع الإلكتروني التالي: www.gillette.com.

نبذة عن بروكتر آند جامبل
تلامس شركة بروكتر أند جامبل وتحسّن حياة أكثر من 5 مليار شخص حول العالم من خلال مجموعة العلامات التجارية ذات الجودة العالية والموثوقة. وتتضمن العلامات التجارية الريادية للشركة كل من: Always®, Ambi Pur®, Ariel®, Bounty®, Charmin®, Crest®, Dawn®, Downy®, Duracell®, Fairy®, Febreze®, Gain®, Gillette®, Head & Shoulders®, Lenor®, Olay®, Oral-B®, Pampers®, Pantene®, SK-II®, Tide®, Vicks®, Wella® and Whisper®. وتنتشر عمليات الشركة في أكثر من 70 بلد حول العالم. لمعرفة آخر الأخبار ومعلومات أكثر تفصيلاً حول بروكتر آند جامبل وعلاماتها التجارية، الرجاء زيارة WWW.PG.COM

https://mma.prnewswire.com/media/1526982/King_C_Gillette.mp4  Video
https://mma.prnewswire.com/media/1526980/KCG_full_line_up.jpg Photo
https://mma.prnewswire.com/media/1526981/KCG_Burj_Khalifa.jpg Photo
https://mma.prnewswire.com/media/1526979/KCG__Tarek_Abdelaziz.jpg Photo

KCG__Tarek_Abdelaziz

‫دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی طلبہ کے پاس ویزے حاصل کرنے کے ’’بہترین‘‘مواقع ہیں

لندن،3جون،2021 /پی آر نیوزوائر/ — اعلی تعلیم کے حصول کےلیے ہر سال سیکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی طلبہ بیرون ملک کا سفر کرتے ہیں۔لاہور میں واقع ایک تعلیم مشیر کے مطابق ان طلبہ میں سے جن کے پاس دوہری شہریت ہوتی ہے ان کو بیرون ملک تعلیمی ویزا ملنے کے ’’بہترین مواقع‘‘حاصل ہوتے ہیں۔حال میں،پاکستانی شہری چند مقامات پر ویزا-فری یا ویزا-آن-ارائیول کے ذریعے سفر کرسکتے ہیں،جس کے نتیجے میں شمالی امریکہ یا یورپ میں تعلیمی ویزا کے لیے درخواست دیتے وقت مہنگے کاعذی کارروائی اور وقت اور پیسہ خرچ ہوتاہے۔

2016میں،ایک برطانوی اعداد وشمار کی ایجنسی نے خبر دی کہ پچاس ممالک کے اعلی تعلیمی نظام کے تجزیے کے مطابق پاکستان سب سے کمزوراعلی تعلیمی نظام رکھتاہے جبکہ امریکہ اور برطانیہ اس لسٹ میں سب سے اوپر رہے۔ایف ای ایس ہائر ایجوکیشن کنسلٹنٹ کے ڈاکٹر سید شجاعت علی شاہ کا کہناتھاکہ مختلف ممالک میں بہتر تعلیمی معیار،کیریئر کی ترقی اورمستقبل کے مواقع کی موجودگی کی وجہ سے بیرون ملک اعلی تعلیم کے حصول کے لیے پاکستانی طلبہ کا شوق بڑھتاجارہاہے ۔پاکستانی طلبہ کے لیے،اعلی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پسندیدہ مقامات میں برطانیہ،امریکہ،آسٹریلیا،اور آئرلینڈ شامل ہیں۔

لندن میں موجود دوہری شہریت کی کمپنی سی ایس گلوبل پارٹنرز کی سی ای او میشا ایمٹ کا کہناتھا کہ،کئی پاکستانی درخواست گزار سیٹیزن شپ بائی انوسٹمنٹ(سی بی آئی)پروگرام کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو دنیا کے اعلی ترین اسکولوں تک رسائی دے سکیں۔ان کا کہناتھا’’والدین اپنے بچوں کو سیکھنے اور زندگی میں کامیابی کے لیے ذرائع فراہم کرنا چاہتے ہیں،اور سرمایہ کاری کے ذریعے دوہری شہریت کا حصول اس بات کو یقینی بنانے کا سب سے تیز اور آسان راستہ ہے۔‘‘

سینٹ کٹس اور نیوس کی دوہری شہریت پاکستانی طلبہ اور والدین کی نقل و حرکت کو بڑھاتی ہے جو بین الاقوامی تعلیمی مراکز کاسفر کرنا چاہتےہیں،ان کاکہناتھا’’ایک یورپی یا کامن ویلتھ ممالک جیسے کہ وفاقی سینٹ کٹس اور نیوس کی شہریت کے ساتھ،آپ دنیا کی قدیم اور مشہور یونیورسٹیوں میں داخلہ لے سکتے ہیں،اور اپنی ماسٹرز کی کی ڈگری کو مکمل کریں جو آپ ہمیشہ سے چاہتے تھے۔‘‘

سی بی آئی کے ذریعے،نئے شہری سینٹ کٹس اور نیوس کی کئی بین الاقوامی شہریت یافتہ یونیورسٹیوں مثلاً دی یونیورسٹی آف میڈیسن اینڈ ہیلتھ سائنسز(یو ایم ایچ ایس) سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،جو کہ اپنے گریجوٹ کو ڈاکٹر آف میڈیسن (ایم ڈی) کی ڈگری دیتی ہے۔مارچ 2011سے،یوایم ایچ ایس کے طلبہ ہر سال مختلف شاخوں میں شامل ہوکر   امریکہ اور کینیڈا میں  ریزڈینسی میچ میں حصہ لیتے رہے ہیں۔یہ ادارہ کالج آف میڈیسن پر ایکریڈیشن کمیشن سے منظور کردہ ہے،جو کہ بیرون ملک تعلیم اور وظائف پر نیشنل کمیٹی جو کہ امریکی محکمہ تعلیم کا حصہ ہے،کی لسٹ میں موجود ایک بین الاقوامی ادارہ ہے۔

سی بی آئی پروگرام کے ذریعے،جانچ پڑتال کے بعد درخواست گزار میزبان ملک میں سرمایہ کاری کے ذریعے قانونی طور پر دوہری شہریت حاصل کرسکتے ہیں۔سینٹ کٹس اور نیوس صنعت میں اپنے طویل المدت سہولیات کی فراہمی کی وجہ سےدنیا بھر میں بطور ’’پلاٹینم اسٹینڈرڈ‘‘مشہور ہے۔یہ سرمایہ کاروں کو ان کے خاندانوں کے لیے شہریت کے حصول کی بڑھتی اہمیت کو بھی اجاگر کرتاہے،اسی لیے،ایک محدود مدت کے لیے،چار افراد پر مشتمل خاندان فنڈ کے آپشن کے ذریعے 195,000ڈالر کی بجائے150,000یو ایس ڈالر پر شہریت حاصل کرسکتے ہیں۔اس کے ساتھ،سینٹ کٹس اور نیوس کامیاب درخواست گزاروں  کی آنے والی نسلوں کو شہریت وراثت میں حاصل کرنے کا بھی موقع دیتاہے۔