آسٹریلیا کے خلاف سریز میں کانٹے دار مقابلہ ہوگا:فواد عالم

لاہور:پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین فواد عالم نے کہا ہے کہ اگلے ماہ آسٹریلیا سے سیریز کانٹے دار ہوگی تاہم متحدہ عرب امارات میں سازگار پچز اور اچھے اسپنرز کی موجودگی میں پاکستان کی جیت کے امکانات روشن ہیں۔ 4 مرتبہ کی عالمی چمپیئن ٹیم سے سخت سیریز کھیل کر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کا اعتماد بڑھ چکا ہے۔آسٹریلیا کے خلاف میچ میں تمام کھلاری بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ورلڈ کپ 2015کے لیے قومی ٹیم پوری طرح تیار ہیں۔

’ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیراعظم کا کوئی کردار نہیں‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ججوں کی تقرری کے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیر اعظم کا کوئی کردار باقی نہیں رہا ہے۔

جسٹس عارف حسین خلجی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کی اور 102 صفحات پر مشتمل اپنی رائے دی۔

سپریم کورٹ کے بنچ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں اور انیسویں ترامیم کی منظوری کے بعد صدر اور وزیراعظم اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے صوابدیدی اختیارات نہیں رکھتے۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق صدر اور وزیر اعظم ججوں کی تقرری سے متعلق عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔

سپریم کورٹ کے مطابق اٹھارہویں اور بیسویں آئینی ترامیم کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور نگران وزیر اعظم کی تقرری میں بھی صدر کا صوابدیدی اختیار ختم ہو گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر نگران وزیرِ اعظم کا تقرر جانے والے وزیرِ اعظم اور حزبِ اختلاف کے رہنما کے مشورے پر اسمبلی کے تحلیل ہونے کے تین دن کے اندر اندر کرنے کا پابند ہو گا۔

اس کے علاوہ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور مسلح افواج کے سربراہوں کا تقرر بھی وزیرِ اعظم کے مشورے سے ہو گا۔

صدارتی ریفرنس میں تیرہ سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان میں صدر نے اعلیِ عدالت سے کئی معاملات پر رائے طلب کی تھی۔ ان میں جسٹس ریاض اور جسٹس کاسی کی سینیارٹی کا معاملہ بھی شامل تھا۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ میں جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس طارق پرویز، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید شامل تھے۔ بنچ نے 14 دسمبر 2012 کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی

کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔

انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی

ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔

اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘

 بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا

واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔

اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘

انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘

بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘