اویواینے مالی سال 2014ء کے لیے 1.1بلین کا خالص منافع حاصل کرلیا

– 1.1 بلین سنگاپوری ڈالرکے خالص نسبتی منافع کا بڑا سبب مینڈرینآرچرڈ سنگاپور اور مینڈرین گیلری کی اویوایہاسپٹلٹی ٹرسٹ کو فروخت رہی

– اپنے ساتھی اداروں میں سرمایہ کاری املاک پر خالص مناسب قدر کے منافع اور کاروباری شعبوں میں مثبت حصہ دار کی بنیاد پر سود اور ٹیکس سے قبل آمدنی سال بہ سال میں 17.9 فیصد بڑھی

-کل ڈیویڈنڈ تقسیم برائے مالی سال 2014ء، بشمول مجوزہ حتمی کیش ڈیویڈنڈ، تقریباً 15.9 سینٹس فی حصص رہی

سنگاپور، 13 فروری 2015ء/پی آرنیوزوائر/ایشیانیٹ پاکستان –

مالیاتی جھلکیاں

ڈالر ملین

31 دسمبر کو ختم ہونے والا سال

تبدیلی

مالی سال 2014ء

مالی سال 2013ء

٪

آمدنی

416.4

436.6

(4.6)

آمدنی قبل از سود و محصول

185.1

157.0

17.9

دیگر منافع/(خسارہ)  – خالص

1,797.7

(50.2)

n.m.

خالص نسبتی منافع/نقصان

1,094.0

(36.6)

n.m.

خالص گیئرنگ (٪)

43.9

57.2

(13.3)

این اے وی فی حصص ($)

4.23

3.18

33.0

ایس جی ایکس مین بورڈ پر مندرج مکمل پراپرٹی ڈیولپراویوای لمیٹڈ (ایکس جی ایکس-ایس ٹی: LJ3) (“اویوای” یا “گروپ”) نے 31 دسمبر 2014ء کو ختم ہونے والی مالی سال (“FY2014”) کو 1.1 بلین سنگاپور ڈالرز کے منافع کے ساتھ مکمل کیا ہے، جو گزشتہ مالی سال (“FY2013”)  کے 36.6 ملین سنگاپوری ڈالرز کے خالص نقصان کو پھیرنا ہے۔

مندرجہ بالا خالص منافع زیادہ تر مینڈرین آرچرڈ سنگاپور اور مینڈرین گیلری کی اویوای ہا سپٹلٹی ٹرسٹ کو فروخت اور اویوای بے فرنٹ، لپو پلازہ اور یوایس بینک ٹاور کی اچھی قدر سے ہونے والے منافع کے سبب ہے۔

کاروبار اور آپریشنز سے ہونے والی آمدنی بدستور 416.4 ملین سنگاپوری ڈالرز پر مستحکم رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.6 فیصد تک کم رہی۔ اس کی وجہ چین کے ہوٹلوں کی جانب سے آمدنی نہ ہونا تھا جو ستمبر 2013ء میں فروخت کیے گئے۔

سود اور محصول سے قبل کی آمدنی 157.0 ملین سنگاپوری ڈالرز سے 17.9 فیصد بڑھ کر مالی سال 2014ء میں 185.1 ملین سنگاپوری ڈالرز رہی۔ یہ اضافہ اس کے مختلف کاروباری شعبوں کی مثبت حصہ داری اور اپنے ساتھی اداروں میں سرمایہ کاری املاک پر ہونے والی قدر میں گروپ کے حصے کی وجہ سے ہوا۔

خالص مالیاتی اخراجات مالی سال 2013ء میں 92.6 ملین سنگاپوری ڈالرز سے 30.9 فیصد کم ہو کر 64.0 ملین ڈالرز رہے جو زیادہ منافع  بخش آمدنی، کم قرضہ جات اور تبادلے کے نقصانات کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے۔

مالی سال 2014ء کے لیے 1.1 بلین سنگاپوری ڈالرز کے خالص نسبتی منافع کے ساتھ گروپ کی آمدنی فی حصص 1.20 سنگاپوری ڈالر رہی۔

ڈیویڈنڈ

ڈائریکٹرز 1 سینٹ فی حصص کے حتمی کیش ڈیویڈنڈ کی تجویز دے چکے ہیں، جو مالی سال 2014ء کے لیے کل کیش ڈیویڈنڈ کو 2 سینٹس فی حصص تک لا رہا ہے۔ یہ ہر 6 عام اویوای حصص کے لیے 1 اویوای ہاسپٹلٹی ٹرسٹ کی معینہ سیکورٹی کی حقیقی تقسیم کے علاوہ ہے جو مارچ 2014ء میں تقریباً 13.9 سیٹس فی حصص کی قیمت پر پیش کی گئی۔ پس، مالی سال 2014ء کے لیے کل تقسیم، بشمول مجوزہ حتمی کیش ڈیویڈنڈ، رقوم تقریباً 15.9 سینٹس فی حصص ہوگی۔

کاروباری جائزہ

زیر جائزہ سال کے دوران گروپ کے مہمان نوازی شعبے نے گزشتہ سال کے 229.6 ملین سنگاپوری ڈالرز کے مقابلے میں 210.6 ملین سنگاپوری ڈالرز کی آمدنی حاصل کی۔ 8.2 فیصد کی اس کمی کا بنیادی سبب فروخت کیے گئے دو چینی ہوٹلوں کی فروخت کی وجہ سے ان کی آمدنی کی عدم موجودگی تھی۔

گروپ کے املاک سرمایہ کاری شعبے سے تخلیق ہونے والی آمدنی19.6 ملین سنگاپوری ڈالرز کے اضافے کے ساتھ 157.8 ملین سنگاپوری ڈالرزہوگئی جو شنگھائی میں لپو پلازا اور لاس اینجلس میں یوایس بینک ٹاور کی املاک کی آمدنی شامل ہونے کے بعد ہے۔

گروپ کی واحد رہائشی تعمیرات اویوای ٹوئن پیکس نے مالی سال 2014ء میں املاک ترقی آمدنی میں 38.3 ملین ڈالرز کا حصہ ڈالا۔ سال بہ سال میں 39.0 فیصد کی اس کمی کا بنیادی سبب سنگاپور میں ماند پڑتی رہائشی املاک مارکیٹ کے نتیجے میں مالی سال کے دوران ہونے والی کم فروخت ہے۔

گروپ نے سال کا اختتام ایک مستحکم فرد میزان کے ساتھ کیا ہے جہاں خالص گیئرنگگزشتہ 57.2 فیصد کے مقابلے میں 43.9 فیصد گری ہے، جسے 2014ء میں 300.0 ملین سنگاپوری ڈالرزکے مقررہ نرخ علامات کی دوبارہ ادائیگی اور 4.23 سنگاپوری ڈالرزاین اے وی فی حصص کا سہارا حاصل رہا۔

کاروباری اپڈیٹ اور منظرنامہ

آگے کی جانب دیکھتے ہوئے گروپ سرمایہ کاری املاک کے اپنے پورٹ فولیو میں دوبارہ آمدنی کو بہتر بنانے کے لیے متحرک لیزمینجمنٹ اور جاری اثاثہ جاتی بہتری کی سرگرمیوں پر توجہ رکھے گا۔

یوایس بینک ٹاور کی مشاہداتی منزل اور ریستوران پر اثاثہ جاتی بہتری جاری ہے، اور دونوں منصوبوں کو 2015ء تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ 31 دسمبر 2014ء تک یوایس بینک ٹاور نے حصول کے بعد سے اس وقت تک تقریباً 650,000 مربع فٹ کی نئے اور تجدید نو کیے گئےکرائے دار حاصل کیے اور 79.6 فیصد کرایہ داری حاصل کی۔

اویوایڈاؤن ٹاؤن کی تزئین نو کا کام احسن طریقے سے جاری ہے اور 2016ء تک مکمل ہوجانا چاہیے۔ تزئین نو اویو اے ڈاؤن ٹاؤن کے موجودہ چبوترے کو ایک پانچ منزلہ خوردہ مال میں تبدیل کردے گا جو خوردہ فروشی اور اشیائے خورد و نوش کا بے مثال انتخاب پیش کرے گا، اور ساتھ ساتھعلاقے کے مکینوں اور کام کرنے والے افراد کی طرز زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سپر مارکیٹ کا کام دے گا۔

کراؤن پلازا چانگیایئرپورٹ ہوٹل کی اویوایہاسپٹلٹی ٹرسٹ کو فروخت 30 جنوری 2015ء کو مکمل ہوئی تھی۔ یہ اویوای کی اپنے اثاثہ جاتی پورٹ فولیو کی قدر کو کھولنے اور ترقی کے نئے مواقع حاصل کرنے کے لیے سرمائے کو دوبارہ استعمال میں لانے اور اپنے فنڈ مینجمنٹ کاروبار کو بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کراؤن پلازا چانگی ایئرپورٹ کی 10 منزلہ توسیع کی فروخت اس کی تعمیر کی تکمیل کے بعد مکمل ہوگی اور عارضی قبضے کے اجازت نامے حاصل کرلیےگئے ہیں۔ توسیع کی تعمیر 2015ء کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے لیکن اس میں جون 2016ء سے زیادہ تاخیر نہیں ہوگی۔

“ماضی میں ہماری اثاثہ جاتی بہتری کی سرگرمیاں ثمر آور تھیں اور انہوں نے طویل المیعادی حصص یافتگان قدر میں حصہ ڈالا۔ آگے کی جانب بڑھتے ہوئے ہم اس حکمت عملی کو آگے بڑھانا جاری رکھیں گے، اور اسی دوران ایسے مواقع دیکھیں گے جو ہماری متواتر آمدنی بنیاد کو سہولت دیں اور مضبوط کریں۔” ڈاکٹر اسٹیفنریاڈی، اویوای لمیٹڈ کے ایگزیکٹو چیئرمین نے کہا۔

اویوای لمیٹڈ کے بارے میں

اویوای لمیٹڈ (ایس جی ایکس-ایس ٹی: LJ3)   ایشیا اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کے بہترین مقامات پر جائیدادوں کے پورٹ فولیو کے ساتھ وسیع جائیدادوں کا مالک، تخلیق کار اور چلانے والا  ادارہ ہے۔ اویوایبالخصوص سنگاپور میںاپنی برانڈز کی افادیت اور تجارتی، مہمان نوازی، خوردہ اور رہائشی  شعبوں میں اثاثوں کو بنانے اور ان کو چلانے کی مصدقہ مہارت کے ساتھ مستقل بنیادوں پر اپنے کاروبار کو ترقی کی راہ پر گامزن کیے ہوئےہے۔مخصوص جائیدادوں کےاستحکام میں اضافے  اور ان میں سرمایہ کاری کی بنیادی حکمت عملی کے ساتھ  اویوایاپنے پورٹ فولیو کو  بڑھانے کے لیے پر عزم ہے جو آمدنی کی طویل المیعاد مضبوط بنیاد کا حامل ہو، ترقیاتی منافع  کے ساتھ متوازن ہو تاکہ حصص یافتگان کی قدر میں طویل- المیعادبہتریآئے۔ اویوای، اویوای ہاسپٹلٹی ٹرسٹ اور اویوای کمرشل آر ای آئی ٹی کا اسپانسر ہے۔

اویوای کی تازہ ترین خبروں کے لیے ہمیں وزٹ کیجیےwww.oue.com.sg

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے:
ٹی ایل وو
ٹیلی فون:
65-6809-6050+
ای میل: tlwoo@oue.com.sg

116 واںکینٹن میلہ –’ایم آر ای پی ایوارڈز سچی مدد اور منافع بخش تعاون کو تسلیم کرتا ہوا’

گوانگ چو، چین، 24 دسمبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ باکستان — سمندر پار ترویج و تشہیر کے جدید ملاپکینٹن میلے کے میڈیاریسورس ایکسچینج پروگرام (ایم آر ای پی) – جس کا اجراء رواں سال کے اوائل میں 115 ویں سیشن میں کیا گیا – منافع بخش اور عالمی سطح پر پھیلے ہوئے تجارتی روابط قائم کرنے کے خواہشمند شرکاء کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔ چین کے سب سے بڑے تجارتی میلے کی حیثیت سے کینٹن میلے کی اثر انگیزی کو استعمال کرنے سے منصوبہ بہت کامیاب رہا۔

وسط اکتوبر تک 21 ایوان ہائےصنعت ، اور ساتھ ساتھ دنیا بھر سے کئی ادارے بھی، ایم آر ای پی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں ۔ 116 ویںکینٹن میلے میں 15 اکتوبر کو  تقریب اعزازات نے ان میں سے دو اداروں کی شاندار کامیابیوں پر خراج تحسین پیش کیا۔

چائنا فارن ٹریڈ سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل جناب لیو جیانجن نے ایک بھارتی ٹریول ایجنسی اوربٹ کو ایک اعزاز پیش کیا۔

لیو نے کہا کہ “میں کینٹن میلے کی جانب سے اوربٹ کو مبارکباد پیش کرنے پر خوش ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اوربٹ ٹیم اپنے شاندار کام کو جاری رکھے گی اور اپنے تعاون کو پھیلائے گی جو پہلے ہی شریک تمام افراد کے لیے منافع بخش ہے۔”

بھارت کا معروف کاروباری سفر کا سہولت کار اوربٹ بھارت میں میلے کی ترویج کے لیے انتھک کام کرچکا ہے۔ 116 ویںکینٹن میلے سے پہلے اپنی کوششوں کے نتیجے میں اوربٹنے 680 بھارتی خریداروں کی شرکت کو یقینی بنایا۔

اوربٹ کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر کرنل پی ششی دھرن  نے کہا کہ “ہمیں یقین ہے کہ ہم اگلے میلے میں ایم آر ای پی پہلا انعام جیتیں گے۔”

چائنا فارن ٹریڈ سینٹر کے سیکرٹریبرائے ڈسپلن انسپکشن کمیشن جناب ما چونزی نے ایک اور انعام انڈونیشیاچائنا بزنس کونسل (آئی سی بی سی) کے صدر جناب لن وینگوانگ کو دیا۔

ما نے کہا کہ “میں 116 ویںکینٹن میلہ ایم آر ای پی پروگرام میں پہلا انعام جیتنے پر جناب لن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم مدد فراہم کرنے پر آئی سی بی سی ٹیم کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔”

جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی انجمن (آسیان) کے سب سے بڑے رکن کی حیثيت سے انڈونیشیاکینٹن میلے کے مہمانوں کے لیے اہم ذریعہ ہے۔ تقریب کے لیے طویل اور سخت محنت کرتے ہوئے آئی سی بی سی نے کئی انڈونیشی اداروں، نمائش کنندگان اور خریداروں دونوں، کی شرکت کو یقینی بنایا۔ گزشتہ دو سالوں میں جناب لن نے متعدد انڈونیشی پرنٹ اور آن لائن اشاعتوں میں میلے کو مفت ترویج دی۔

آئی سی بی سی کے صدر نے کہا کہ “ایم آر ای پی پہلا انعام حاصل کرنا ایک بڑا اعزاز ہے۔ ہم کینٹن میلے کی مدد کے لیے حتی الامکان حد تک اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔”

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/mrep/index.aspx

ایم آر ای پی سوالات کے لیے:

فرینک چین
ٹیلی فون:
86-20-8913-8626+
ای میل: cqh.frank@cantonfair.org.cn

صحت عامہ، تعلیم، انسانی حقوق اور جمہوریت میں غیر معمولی انسانی پر افغانستان کے آزاد انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے احسان اللہ بیات کے لیے انسانی حقوق اعزاز

کابل، افغانستان، 15 دسمبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — اقوام متحدہ کے عالمگیر میثاق برائے انسانی حقوق کی 66 ویں سالگرہ کے موقع پر افغانستان آزاد انسانی حقوق کمیشن (AIHRC) کی چیئرپرسن ڈاکٹر سیما ثمر نے 8 دسمبر 2014ء کو احسان اللہ بیات کو اپنا انسانی حقوق ایوارڈ  پیش کیا۔ اعزاز جناب بیات کے افغانستان – خصوصاً دیہی علاقوں میں – اپنے غیر منافع بخش ادارے بیات فاؤنڈیشن کے ذریعے نوجوانوں، عورتوں، غرباء اور ضعیفوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے کام پر دیا گیا ہے۔

اپنے انتخاب کا علم ہونے پر جناب احسان بیات نے کہا کہ “میں اقوام متحدہ کے عالمگیر میثاق برائے انسانی حقوق کی 66 ویں سالگرہ کے دوران اے آئی ایچ آر سی کی جانب سے اس اعزاز کے لیے منتخب کیے جانے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ یہ تاریخی عالمی معاہدہ دنیا بھر میں تمام افراد کو یکساں مواقع دینے کی کوششوں  کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مضبوط کیا گیا تھا، اور گزشتہ تیرہ سالوں میں ایک ایک نئے اور جدید افغانستان کی ترقی میں حصہ ڈالنا میرے لیے ایک اعزاز تھا جو عالمگیر انسانی حقوق کی ضرورت کا فہم اور حمایت رکھتا ہو۔”

جناب بیات نے مزید کہا کہ “گزشتہ تیرہ سالوں میں میری تمام انسانی اور کاروباری کوششیں، چاہے وہ بیات فاؤنڈیشن کے تحت ہوں، افغان وائرلیس کمیونی کیشن کمپنی، یا آریانہ ٹیلی وژن و ریڈیو کے تحت، ان کی نظریں تمام افغانوں پر مرکوز رہیں – ان کے مقام اور زبان سے بالاتر ہو کر – تاکہ ملک کے لیے مشکل دہائیوں میں تمام ناانصافی کو شکست دے سکیں اس امید کے ساتھ کہ افغان مرد، عورت اور بچے ملک کے تمام حصوں سے اکٹھے ہوں، تعمیر نو کریں> استحکام دیں اور اپنی قوم کو آگے لے جائیں۔ ہم اپنے ملک میں انسانی حقوق کی تعلیم کی حمایت جاری رکھیں گے اور تمام افغانوں کے حقوق کی مزید حفاظت اور انہیں عزیز رکھنے کے لیے جاری کوششوں میں مدد کریں گے۔ اس لیے میں عاجزانہ طور پر اے آئی ایچ آر سی کا رواں سال کا اعزاز قبول کرتا ہوں۔”

آریانہ ٹیلی وژن اینڈ ریڈیو نیٹ ورک کے بارے میں

2005ء میں جناب احسان اللہ بیات کی جانب سے قائم کردہ آریانہ ٹیلی وژن اینڈ ریڈیو (اے ٹی این) افغانستان کے سب سے بڑے نجی ابلاغی چینلز ہیں، جو 34 میں سے 33 صوبوں کا احاطہ کررہے ہیں اور 25،000،000 افغانوں تک رسائی رکھتے ہیں۔ اے ٹی این بذریعہ سیٹلائٹ یورپ، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں دری اور فارسی بولنے والے ناظرین کے لیے بھی دستیاب ہے۔ معلومات، مواد اور تفریح پر مرکوز اے ٹی این کے پروگرام تعلیم، صحت، بچوں کے پروگراموں، خواتین اور عالمی مسائل پر خصوصی نظر رکھتے ہیں اور اے ٹی این کی ٹیم واقعات کی درست اور غیر متعصبانہ خبریں پیش کرنے میں بہت فخر محسوس کرتی ہے۔

ابتداء ہی سے اے ٹی این کا ہدف شمولیت و تعلیم اور “بہتر کل کے لیے دروازے” پیش کرنا ہے ۔ دو قومی ٹیلی وژن اور دو قومی ریڈیو چینلوں (اے ٹی این اور اے ٹی این نیوز) کی تکمیل کے ساتھ ہمارا ہدف اپنے ریڈیو اور ٹیلی وژن سامعین و ناظرین کو دنیا بھر کی بہترین بین الاقوامی فن و ثقافت سے روشناس کرانا، اور ساتھ مقامی لکھاریوں، پیش کاروں، اداکاروں اور افغان برادریوں میں موجود ہدایت کاروں کو زیادہ مواقع پیش کرنا ہے۔ پروگراموں تک رسائی  اے ٹی این کی ویب سائٹ www.arianatelevision.comیا ہاٹ برڈ اور گلوب کاسٹ سیٹلائٹس کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔

افغان وائرلیس کے بارے میں

احسان اللہ بیات کی جانب سے قائم کردہ اور کابل میں صدر دفاتر کا حامل افغان وائرلیس (اے ڈبلیو سی سی) – ٹیلی فون سسٹمز انٹرنیشنل انکارپوریٹڈ (ٹی ایس آئی) اور وزارت مواصلات کا مشترکہ منصوبہ ہے جو افغانستان بھر میں 4،000،000 صارفین کو خدمات فراہم کررہا ہے۔ 5،500 افراد کے لیے براہ راست اور مزید 100،000 کے لیے بالواسطہ روزگار فراہم کرنے والا افغان وائرلیس افغانستان کے سب سے بڑے آجروں میں سے ایک ہے، اور گھریلو اور کاروباری صارفین کے لیے وائرلیس اور براڈ بینڈ مواصلاتی حل پیش کرنے میں رہنما ادارہ ہے۔ مزید معلومات www.afghan-wireless.com پر دستیاب ہیں۔

بیات فاؤنڈیشن کے بارے میں

2005ء سے قائم 501 سی (3) خیراتی ادارہ بیات فاؤنڈیشن افغان عوام کی بہبود کے لیے کام کرتا ہے۔ احسان بیات اور فاطمہ بیات کی جانب سے قائم کی گئی اور ان کی زیر ہدایت کام کرنے والی فاؤنڈیشن نے افغانستان کے نوجوانوں، عورتوں، غرباء اور ضعیفوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے سے وابستہ 200 سے زائد منصوبوں میں حصہ ڈالا ہے۔ ان میں ضرورت مند علاقوں میں نئی تنصیبات اور خود انحصار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، اور صحت، تعلیم، معیشت اور ثقافتی منصوبوں کی ترویج  شامل ہیں۔مزید معلومات کے لیے ای میل کیجیےinfo@bayatfoundation.org۔

 رابطہ: منٹگمری سائمس، m.simus@tsiglobe.com +1-702-809-6772

افغان وائرلیس نے 3.75جی+ سروسز جاری کردیں:افغانستان میں حقیقی موبائل براڈبینڈ لانے والا واحد سیلولر ٹیلی فونی ادارہ

کابل، افغانستان، 15 دسمبر 2014ء / پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — اپنے جامع 2جی نیٹ ورک اور کامیاب موبائل رقوم منصوبے (مائی منی) کی بنیاد پر افغانستان کے پہلے موبائل آپریٹر افغان وائرلیس ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی (اے ڈبلیو سی سی) افغان ٹیلی کمیونی کیشنز شعبے میں اپنے قائدانہ کردار کو جاری رکھتے ہوئے آج کابل میں 3.75جی+ سروسز کے اجراء کے ذریعے حقیقی موبائل براڈبینڈ خدمات پیش کرنے والا پہلا موبائل ٹیلی فونی ادارہ بن گیا ہے۔

دنیا بھر کے معروف فروخت کنندگان کی جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کابل میں اپنے ریڈیو اور بنیادی نیٹ ورک کو مکمل طور پر دوبارہ تعمیر کرنے والے اے ڈبلیو سی سی کی سروس کا اجراء اسے کابل شہر میں اپنے ہر 3جی مقام پر افغانستان میں جدید ترین ڈوئل-کیریئر-ایچ ایس پی اے+ (ہائی اسپیڈ پیکٹ ایکسس پلس) ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا واحد آپریٹر بناتا ہے۔ یہ حل افغانستان میں پہلیبار 42 ایم بی پی ایس فی سیل کا ڈیٹا ڈاؤنلوڈ کرنے کی اجازت دیتا ہے، جو اے ڈبلیو سی سی کے صارفین کو کابل میں تیز ترین 3جی سروس دے رہا ہے۔

افغان وائرلیس نے اپنے 3جی اجراء کے حصے کے طور پر انٹرنیٹ پروٹوکول ورژن 6 (آئی پی وی 6) کا بھی نفاذ کیا ہے، جو اے ڈبلیو سی سی کو آج افغانستان میں تمام آئی پی وی 6 نیٹ ورک کے ساتھ پہلا اور واحد ادارہ بنا رہی ہے۔ اس حل کے ساتھ اے ڈبلیو  سی سی تمام افراد اور اداروں کو ایک عوامی آئی پی ایڈریس فراہم کرتی ہے جو دنیا بھر میں کہیں سے بھی براہ راست قابل رسائی ہوگا، اور اے ڈبلیو سی سی کے صارفین کو آئی پی وی 4 کے مقابلے میں زیادہ حفاظت کے ساتھ گھریلو خودکاری، فائل شیئرنگ، آن لائن گیمنگ، پیئر-ٹو-پیئر پروگرامز اور دیگر ایپلی کیشنز کو سنبھالنے جیسی سرگرمیوں میں آسانیاں دے گا۔

اے ڈبلیو سی سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر امین رامن نے کہا کہ “ہم ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے افغانستان کے ٹیلی فونی شعبے میں صنعت کے رہنما ادارے کی حیثیت اور ذمہ داری کا لطف اٹھا چکے ہیں اور ہمیں ملک میں پہلے ایسے حقیقی موبائل براڈبینڈ فراہم کنندہ کی حیثیت اختیار کرنے پر فخر ہے جو “براڈبینڈ” کی عالمی تعریف پر پورا اترتا ہو۔ ہمیں کابل میں اپنے صارفین کو جدید خدمات فراہم کرنے پر خوشی ہے، چاہے وہ بہتر انٹرنیٹ سرفنگ کی صورت میں ہو، آن لائن گیمنگ یا ایس ڈی یا ایچ ڈی فارمیٹ میں بہتر وڈیو دیکھنے کے تجربات ہوں، ہمیں یقین ہے کہ صارفین جلد ہی 3.75جی+ ٹیکنالوجی اور موبائل براڈبینڈ کے حقیقی معنی اور تیز رفتاری کو سمجھ جائیں گے۔”

جناب امین نے مزید کہا کہ “3جی میں منتقلی کے اپنے حصے کے طور پر ہم نے ملک میں انٹرنیٹ گنجائش کو بھی بڑھایا ہے اور کابل کے گرد ایک بہتر اور بھرپور ٹرانسمیشن نیٹ ورک تعمیر کیا ہے تاکہ ڈیٹا کے بڑے حجم کے قابل بھروسہ اور ہموار بہاؤ کو ممکن بنایا جا سکے جو موبائل براڈبینڈکی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے۔ یہ ہمیں حقیقی برانڈبینڈ رفتاروں پر 24 گھنٹے، ساتوں دن اور سال کے تمام 365 ایام میں اعلیٰ معیار کے ڈیٹا کے بڑے حجم کی قابل بھروسہ فراہمی کے قابل بناتا ہے۔”

اے ڈبلیو سی سی 2015ء کی پہلی سہ ماہی میں قندھار میں بھی اسی معیار کی موبائل براڈبینڈ سروس جاری کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، اور 2015ء کے دوران ہی افغانستان کے تمام بڑے شہروں میں اجراء جدول کا حصہ ہے۔

افغان وائرلیس کے بارے میں

کابل میں صدر دفاتر کے ساتھ اے ڈبلیو سی سی افغانستان بھر میں تقریباً 4,000,000 صارفین کو خدمات دیتا ہے؛ اور افغانستان کے بڑے ملازم رکھنے والے اداروں میں سے ایک ہے جسے احسان بیات ے قائم کیا۔ اے ڈبلیو سی سی 5،500 افراد کے لیے براہ راست اور مزید 100،000 کے لیے بالواسطہ روزگار فراہم کرتا ہے۔ اے ڈبلیو سی سی گھریلو اور کاروباری صارفین کے لیے وائرلیس اور براڈ بینڈ مواصلاتی حل پیش کرنے میں رہنما ادارہ ہے۔ مزید معلومات www.afghan-wireless.comپر یا ٹیلی فون سسٹمز انٹرنیشنل (“ٹی ایس آئی) کی ویب سائٹ www.tsiglobe.comپر دستیاب ہیں۔

رابطہ: البرٹو لوپیز، a.lopez@tsiglobe.com، + 1 917 330 4510

116 واں کینٹن میلہ – “جدت طرازی بین الاقوامی کو زیادہ سے زیادہ واپس لاتی ہے”

گوانگ چو، چین، 8 دسمبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — شرکاء کی داد و تحسین کے ساتھ کینٹن میلہ تجارت کے لیے ایک جدید مقام فراہم کرنے کی خاطر مستقل کام کررہا ہے۔ 116 واں میلہ، جو 4 نومبر کو گوانگ چو میں مکمل ہوا، اس سے مستثنیٰ نہیں تھا، جہاں منتظمین نمائش کے موضوعات، تقریب کی ترویج، معلومات کے تبادلے اور دیگر خدمات کے لیے جدت اختیار کررہے ہیں۔

سال میں دو مرتبہ ہونے والی تقریب نے 200 سے زیادہ ممالک کے 186,104 خریداروں کی توجہ مبذول کروائی، جو 115 ویں سیشن کے مقابلے میں صرف 1 فیصد کمی تھی۔ جبکہ تقریب میں ہونے والے برآمدی معاہدوں کی کل مالیت بھی سال بہ سال کی بنیاد پر 29.16 ارب امریکی ڈالرز تک کم ہوئی، آسیان ممالک، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ ایس اے آر سب کے ساتھ معاہدے کی قدر میں اضافہ ہوا۔

ہمیشہ کی طرح کینٹن میلہ نے مختلف النوع بین الاقوامی خریداروں کی جانب سے مثبت تبصرے حاصل کیے۔

“آپ کو یہاں کچھ بھی مل سکتا ہے،” باورچی خانے کی تھوک مصنوعات فروخت کرنے والے ادارے سوکا ہوم اسٹائل کے ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے خریدار ہاویئر سلاما نے کہا۔ “میں دیگر ملکوں میں تجارتی میلوں میں بھی شرکت کرچکا ہوں اور اشیاء کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کیا، لیکن کینٹن میلے میں میں نے ہمیشہ وہ پایا، جو چاہا ۔”

1,300 سے زیادہ بین الاقوامی چین کمپنیوں نے میلے مین شرکت کی، جن میں 2013ء میں دنیا کے سرفہرست 250 خوردہ فروشوں میں سے 102 بھی شامل تھے۔ ان میں دنیا کے 10 سرفہرست عالمی خوردہ فروشوں میں سے پانچ  شامل تھے: وال-مارٹ، ٹیسکو، کاریفور، ہوم ڈپو اور ٹارگٹ۔ بین الاقوامی و قومی پویلین کی تکمیل کے لیے نئے نمونے کو بھی سراہا گیا، جس میں بین الاقوامی پویلین نے 45 ممالک اور خطوں کے  551 اداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ نمائش کے توانائی اور پالتو جانوروں کی مصنوعات کے نئے حصے بھی مقبول رہے۔

جیسا کہ منتظمین کینٹن میلے کے ماحول پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کی مستقل کوشش کررہے ہیں، 116 ویں سیشن نے تقریب کے گرین ڈیولپمنٹ پلان کے مکمل اجراء کا بھی مشاہدہ کیا۔ نمائش کنندگان کی جانب سے استعمال کیے گئے سبز معیارات کی تعداد گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 15 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ تقریباً 40,000 رہی، جبکہ مرحلہ 1 اور 2 میں گزشتہ سیشن کے مقابلے میں کوڑا اور گندگی ڈھکنا بھی زیادہ رہا۔

میلے میں نمائش کے لیے پیش کردہ مصنوعات کے تنوع کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ پہلی بار میلے میں شرکت کرنے والے جمیکا کے کیوین ڈوگلس، کیوی ورجن ہیئر کے سی ای او، بالوں کی مصنوعات اور اشیاء جیسا کہ ہیئرڈرائیرز اور شیمپو کی تلاش میں تھے۔

خوشی سے چہکتے ہوئے ڈوگلس نے کہا کہ “فروخت کے لیے پیش کردہ چینی مصنوعات کی پسندیدگی اور معیار اول درجے کا ہے، بلاشبہ میں یہاں  دوبارہ آؤں گا۔”

میلہ منتظمین کی نظریں اب کینٹن میلے کی 117 ویں قسط پر ہیں، جو 15 اپریل 2015ء سے شروع ہوگا۔

مزيد معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

رابطہ: جناب وو سیاؤینگ، 8628-8913-20-86+، xiaoying.wu@cantonfair.org

گزشتہ سہ ماہی میں بینکاری کے شعبے کی کارکردگی متاثرکن رہی:اسٹیٹ بینک

کراچی:اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میںکہا ہے کہ جولائی تا ستمبر 2014کی سہ ماہی میں بینکنگ کے شعبے میں خاصی بہتری آئی۔ ستمبر 2014ءکے اواخر تک منافع (قبل از ٹیکس) تاریخی طور پر بلند ترین سطح 176 ارب روپے تک پہنچ گیا جس میں آخر ستمبر 2013ءکے مقابلے میں 44 فیصد اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح اثاثوں پر منافع (ROA) اور ایکویٹی پر منافع (ROE) بھی بہتر ہوکر بالترتیب 1.4 فیصد اور 15.9 فیصد ہوگیا جبکہ ایک سال قبل 1.1 فیصد اور 12.3 فیصد تھے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ستمبر 2014میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے بینکاری شعبے کی شماریات کے مطابق بینکاری نظام کی شرح کفایت سرمایہ (CAR) ستمبر 2014میں بہتر ہو کر 15.5 فیصد ہوگئی جبکہ ایک سہ ماہی قبل 15.1 فیصد تھی جس کا بڑا سبب بھرپور منافع ہے۔ سخت بازل تھری (Basel-III) کیپٹل اسٹینڈرڈ کے نفاذ کے باوجود موجودہ شرح کفایت سرمایہ اسٹیٹ بینک کی مقرر کردہ کم از کم حد 10 فیصد سے خاصی بلند ہے۔ حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ دباؤ کی جانچ (stress test) کے نتائج سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نظام کی اساس سرمایہ اتنی مضبوط ہے کہ وہ قرضے، مارکیٹ اور سیالیت کے خطرے کی وجہ سے کوئی بھی غیرمعمولی دھچکے برداشت کرسکتا ہے۔بینکاری شعبے کے اثاثہ جاتی معیار (asset quality) کے اظہاریے بھی معمولی تبدیلی کے ساتھ استحکام ظاہر کرتے ہیں۔ ستمبر 2014ءمیں غیر فعال قرضوں (NPLs) اور کل قرضوں کا تناسب تموین (provision) منہا کرکے 3.2 فیصد ہے جو ستمبر 2011ءکے نقطہ عروج 6.4 فیصد سے خاصا کم ہے۔