یونین پے انٹرنیشنل کی بیرون ملک کارڈ اجرا کی ترویج کا آنے والے سیاحوں کی جانب سے خیرمقدم

شنگھائی، چین، 17 مئی 2016ء/سن ہوا-ایشیانیٹ/– یونین پے کی سمندر پار تیزی سے توسیع، خاص طور پر اپنی مقام بندی کی حکمت عملی کے نفاذ، کے ساتھ یونین پے کارڈز بیرون ملک کارڈ یافتگان کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جانب سے مستقل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ 9 مئی کو یہ معلوم ہوا کہ 2016ء کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک بیرون ملک جاری ہونے والے یونین پے کارڈز پر ہونے والے لین دین کا حجم یونین پے کے کل بین الاقوامی کاروبار کے تقریباً نصف کا ذمہ دار تھا؛ یہ عدد 2013ء کے اختتام پر صرف 27 فیصد تھا۔ بیرون ملک جاری ہونے والے یونین پے کارڈز کے چین میں مالی لین دین کی تعداد میں سال بہ سال میں 30 فیصد سے زيادہ اضافہ ہوا ہے۔

اب تک 55 ملین سے زیادہ یونین پے کارڈز بیرون ملک 40 ممالک اور خطوں میں جاری کیے جا چکے ہیں۔ ہانگ کانگ، مکاؤ، جاپان، جنوبی کوریا، جنوب مشرقی ایشیا اور “ون بیلٹ اینڈ ون روڈ” پر موجود مارکیٹیں یونین پے کارڈ اجرا کے سلسلے میں بیرون ملک بڑی مارکیٹیں ہیں۔ نیشنل ٹورازم ایڈمنسٹریشن کے مطابق یہ مارکیٹیں چین آنے والے سیاحوں کا بھی بڑا ذریعہ ہیں۔

یونین پے انٹرنیشنل بیرون ملک کارڈ یافتگان کے لیے خدمات اور سہولیات کو بہتر بنا رہی ہے: پہلے، اس نے بیرون ملک مارکیٹوں میں قبولیت کے ماحول کو بہتر بنایا اور کارڈ اجرا کے پیمانے بڑھائے۔ دوسرا، اس نے متعدد مقامی شہروں میں خاص کاروباری علاقے بنائے اور سرحدی تجارتی تصفیہ خدمات کو مکمل کیا۔ تیسرا، اس نے بیرون ملک جاری ہونے والے یونین پے کارڈز کے لیے خصوصی سہولیات اور پیشکشیں فراہم کیں۔ مثال کے طور پر یہ جنوبی کوریا، سنگاپور اور آسٹریلیا میں 10 چینی ویزا ایپلی کیشن سروس سینٹرز ميں وی آئی پی سروس پیش کرتا ہے۔

کے جیان بو، سی ای او یونین پے انٹرنیشنل نے کہا کہ “ایک ‘عالمی نیٹ ورک اور بین الاقوامی برانڈ’ بنانے کے یونین پے کے وژن کے ساتھ ہم اپنی بیرون ملک قبولیت کا نیٹ ورک اور سروس سسٹم بہتر بنا رہے ہیں، صرف ‘بیرون ملک جانے والے’ چینی باشندون کے لیے ادائیگی سہولت فراہم کرکے نہیں، بلکہ غیر ملکی صارفین پر زیادہ ترجہ بھی دے رہے ہیں۔ یونین پے انٹرنیشنل اپنے بیرون ملک کارڈ اجرا کو توسیع دے گا اور خصوصی کارڈ مصنوعات و خدمات تیار کرے گا، تاکہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی صارفین چین کی جانب متوجہ ہوں اور چین اور دیگر خطوں کے درمیان تبادلوں اور رابطوں کے لیے دو طرفہ سپورٹ پیش کرے گا۔”

یونین پے کارڈز ہانگ کانگ، جنوبی کوریا، پاکستان، روس اور قازقستان میں مقبول ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں غیر ملکی کارڈ یافتگان کے چین میں اخراجات میں بھی بڑا اضافہ ہوا۔ سنگاپور میں جاری ہونے والے یونین پے کارڈز پر چین میں لین دین میں 3 گنا اضافہ ہوا اور لاؤس، کمبوڈیا اور آسٹریلیا میں جاری ہونے والے یونین پے کارڈز کی شرح نمو بھی دوگنی ہوئی۔

31 اکتوبر سے آج تک گوانگ چو، ہانگ چو، کنمنگ، شین یانگ، نان جنگ، سیامین، چنگ ڈاؤ اور چانگ شا کے آٹھ ہوائی اڈوں پر چائنا ڈیوٹی فری اسٹورز بیرون ملک جاری ہونے والے یونین پے کارڈز پر 10 فیصد چھوٹ اور دیگر رعایتیں دے رہے ہیں۔

اب یونین پے کارڈز مصنوعات و خدمات بیرون ملک صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جانب سے تسلیم کی گئی ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں جنوبی کوریا میں جاری ہونے والے یونین پے کارڈز کا جاپان اور امریکا میں لین دین کا حجم دو گنا بڑھا، اور دیگر خطوں میں “ون بیلٹ اینڈ ون روڈ” کے ساتھ واقع ممالک (روس، پاکستان اور موریشیس وغیرہ) دو گنا سے زیادہ بڑھا ہے۔

مزید معلومات کے لیے:  http://www.unionpayintl.com/

ذریعہ: یونین پے انٹرنیشنل

ایم آئی ٹی کا آئی ڈی ای انکلوزِو انوویشن مقابلہ جنوبی ایشیائی اداروں کی مسابقت کی حوصلہ افزائی کرتا ہوا

1 ملین ڈالرز ایسے اداروں کو دیے جائیں گے جو ڈیجیٹل عہد میں بنیادی اور درمیانے درجے کے کمانے والوں کے لیے اقتصادی مواقع تخلیق کریں؛ یکم جون 2016ء آخری تاریخ

کیمبرج، میساچوسٹس، 17 مئی 2016ء/پی آرنیوزوائر/– ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت تیزی سے تبدیلی لا رہی ہے، لیکن ادارے اور کام کرنے والوں کی مہارت وہ رفتار برقرار نہیں رکھ پا رہی۔ لاکھوں افراد پہلے ہی پیچھے رہ چکےہیں اور یہ رحجان ممکنہ طور پر مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

MIT Initiative on the Digital Economy Logo.

لوگو –http://photos.prnewswire.com/prnh/20160517/369006LOGO

اس کے ردعمل میں میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے منصوبہ برائے ڈیجیٹل معیشت نے پہلے سالانہ انکلوزِو انوویشن کمپٹیشن (آئی آئی سی) www.MITinclusiveinnovation.com کا اجرا کیا ہے۔

آئی آئی سی ان اداروں کو 1 ملین ڈالرز دے گی جو درمیانے اور بنیادی سطح کی آمدنی حاصل کرنے والوں کے لیے معاشی مواقع بہتر بنانے پر توجہ رکھ کر زیادہ مکمل، سیر حاصل اور ماحول دوست مستقبل ایجاد کررہےہیں۔ برائے منافع، اور غیر منافع بخش، ہر حجم، عمر، قسم اور قوم سے تعلق رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اداروں کو جانچا جائے گا کہ وہ ٹیکنالوجی کے جدید ذرائع کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں اور ایسے انقلابی طریقے اپنا رہے ہیں جو درمیانے اور بنیادی سطح کے کمانے والوں کے لیے اقتصادی مواقع بڑھائیں۔

مقابلے کو سرمایہ کاری میں دی راک فیلر فاؤنڈیشن، دی جوائس فاؤنڈیشن، دی نیس ڈيک ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اور ایرک و اینڈی شمٹ کی مدد حاصل ہوگی۔

ادارے مندرجہ ذیل چار زمروں میں مقابلہ کریں گے:

مہارتیں: ہم اپنی افرادی قوت کے اراکین کو مستقبل کے مواقع کے لیے کس طرح مہارتوں سے دوبارہ لیس کر سکتے ہیں؟

برابری: ہم طلب کے ساتھ مزدوری کی فراہمی کو کس طرح مساوی کر سکتے ہیں؟ ہم قابل افراد کو کام کے لیے کھلے مواقع سے کس طرح جوڑ سکتے ہیں؟

انسان + مشینیں: ہم انسانی مزدوری کو ٹیکنالوجی کے ساتھ کس طرح بڑھا سکتے ہیں تاکہ وہ انسان یا مشین کے اکیلے پیش کردہ نتائج سے زیادہ حاصل کر سکے؟

نئے نمونے: ہم نئی عملی مشقوں اور کاروباری نمونوں کو موجودہ مزدوری مارکیٹ کو تبدیل کرنے کے لیے کس طرح تخلیق کر سکتے ہیں اور تاکہ نئے اقتصادی مواقع پیدا ہوں؟

چار بڑے انعامی فاتحین، چار زمروں میں سے ہر میں ایک، 125,000 ڈالرز انعام حاصل کریں گے۔ سولہ مقابلے کے فاتحین – ہر زمرے میں چار –25,000 ڈالرز حاصل کریں گے۔

آئی آئی سی کے منصفین “ججز چوائس” ایوارڈز حاصل کرنے کے لیے چند انوکھے موجد اداروں کا بھی انتخاب کریں گے۔

درخواست گزار لازمی یکم جون 2016ء تک رجسٹر ہو جائیں اور 15 جون 2016ء تک درخواستیں جمع کرا دیں جب مقابلہ مکمل ہوگا۔ فاتحین کا اعلان ایم آئی ٹی سولو (solve.mit.edu) کے تعاون سے 27 ستمبر 2016ء کو بوسٹن کے ہب ویک (hubweekboston.com) میں ہوگا۔

ڈیجیٹل اکانمی پر ایم آئی ٹی منصوبے کے بارے میں ملاحظہ کیجیے: mitsloan.mit.edu/ide

ایم آئی ٹی انوویشن انیشی ایٹو کے بارے میں ملاحظہ کیجیے: innovation.mit.edu

ایم آئی ٹی سلون اسکول آف مینجمنٹ کے بارے میں ملاحظہ کیجیے: mitsloan.mit.edu

مائیکروسافٹ فیچر فون کاروبار ایف آئی ایچ موبائل لمیٹڈ اور ایچ ایم ڈی گلوبل، او وائی کو فروخت کررہا ہے

ریڈمنڈ، واشنگٹن، 18 مئی 2016ء/پی آرنیوزوائر/– مائیکروسافٹ کارپوریشن نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ ادارے کے ابتدائی سطح کے فیچر فون اثاثہ جات کو 350 ملین ڈالرز میں ہون ہائی/فوکسکون ٹیکنالوجی گروپ کے ماتحت ادارے ایف آئی ایچ موبائل لمیٹڈ اور ایچ ایم ڈی گلوبل؛ او وائے کو فروخت کرنے رضامندی ہوگی ہے۔ معاہدے کے تحت ایف آئی ایچ موبائل لمیٹڈ ہنوئی، ویت نام میں واقع ادارے کی مینوفیکچرنگ تنصیب مائیکروسافٹ موبائل ویت نام بھی حاصل کرے گا۔ معاہدے کے اختتام تک تقریباً 4,500 ملازمین ایف آئی ایچ موبائل لمیٹڈ یا ایچ ایم ڈی گلوبل منتقل ہو جائیں گے، یا اس کا موقع پائیں گے، جو مقامی قانون کی تعمیل سے مشروط ہے۔

Microsoft company logo.

لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20000822/MSFTLOGO

مائیکروسافٹ ونڈوز 10 موبائل بنانا اور لومیا 650، لومیا 950 اور لومیا 950 ایکس ایل جیسے لومیا فونز، اور ایسر، الکاٹیل، ایچ پی، ٹرینٹی اور وائیو جیسے او ای ایم شراکت داروں کے لیے فونز بنانا جاری رکھے گا۔

معاہدے کے تحت مائیکروسافٹ اپنے تمام فیچر فون اثاثہ جات، بشمول برانڈز، سافٹویئرز اور سرو‎سز، دیکھ بھال کا نیٹ ورک اور دیگر اثاثہ جات، صارفین معاہدے اور رسد کے اہم معاہدے تمام ہی منتقل کرے گا، مقامی قانون کی تعمیل کے مطابق۔ مالی سودا 2016ء کی دوسری ششماہی میں مکمل ہونا متوقع ہے، جو انضباطی منظوریوں اور تکمیل کی دیگر شرائط سے مشروط ہے۔

مائیکروسافٹ _نیس ڈيک “ایم ایس ایف ٹی” @microsoft) پہلے موبائل، پہلے کلاؤڈ دنیا کے لیے ایک معروف پلیٹ فارم اور پروڈکٹیوٹی کمپنی ہے، اور اس کا مقصد زمین پر موجود ہر شخص اور ہر اداے کو زیادہ سے زیادہ کے حصول کی طاقت دینا ہے۔

چین کے چانگ چو نیشنل ہائی ٹیک ڈسٹرکٹ میں سائیکل بنانے والے تائیوانی ادارے منگ سائیکل انڈسٹریل کی درجہ اول کی بائیسکل پیداواری تنصیب قائم

چانگ چو، چین، 17 مئی 2016ء/پی آرنیوزوائر/– تائیوان میں قائم سائیکل ساز منگ سائیکل انڈسٹریل نے چین کے صوبہ جیانگ سو کے چانگ چو نیشنل ہائی ٹیک ڈسٹرکٹ (سی این ڈی) میں اپنی تنصیب میں جاری سرمایہ کاری کی بنیاد پر خود کو بائیسکل مارکیٹ میں زبردست اضافے کی بہترین مثال کے طور پر ظاہر کیا ہے۔

کامیابی کے پیچھے موجود راز حقیقی سامان بنانے والے (اوای ایم) سے ساخت گری پر توجہ رکھنے والے ادارے میں تبدیلی ہے، ایک برانڈ کی حییت سے جو اپنی ملکیتی جدید ٹیکنالوجیاں رکھتا ہے۔ 5 مئی کو منگ سائیکل انڈسٹریل نے اپنے ماتحت ادارے منگ (چانگ چو) سائیکل انڈسٹریل کے تیسرے کارخانے کی فیتہ کٹائی اور افتتاح کی تقریب منعقد کی۔ نئے کارخانے کے جاری ہونے اور سرمایہ کاری کے 55.25 ملین ڈالرزسے 154.2 ملین ڈالرز تک پہنچنے سے، منگ (چانگ چو) سائیکل انڈسٹریل سالانہ دو ملین سائیکلیں بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

مارچ 2000ء میں منگ (چانگ چو) سائیکل انڈسٹریل کو غیر ملکی فنڈ سے چلنے والے مینوفیکچرنگ ادارے کی حیثیت سے قائم کیا گیا تھا۔ جولائی 2001ء میں تنصیب نے سی این ڈی میں پیداوار شروع کی تھی۔ تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری بڑھاتے ہوئےمنگ (چانگ چو) سائیکل انڈسٹریل نے 17 ستمبر 2010ء کو ہائی-ٹیک انٹرپرائز سند حاصل کی۔ 2011ء میں منگنے جدت طرازی، ملکیتی حقوق دانش اور ملکیتی برانڈز کے سلسلے میں تین اہم تبدیلیوں کو تحریک دینے کے لیے اپنا تحقیقی و ترقی مرکز قائم کیا، اور ادارے کو اوا ی ایم کے بجائے ایک تکمیل کار اور ڈیزائنر کی حیثیت سے تشکیل نو میں مدد دی۔ بائیسکل بنانے والا ادارہ اب تک 32 پیٹنٹس حاصل کر چکا ہے۔ اس کی تمام مصنوعات چین سے باہر 30 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں فروخت ہوتی ہیں، جن میں امریکا، کینیڈا، روس، جاپان، جنوبی کوریا اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ 2015ء میں ادارے نے تقریباً 1.6 ملین سائیکلیں اور 1.2 ملین سائیکل فریم اور دو شاخے تیار کیے۔

منگ سائیکل انڈسٹریل اپنی سرمایہ کاری کو مسلسل بڑھایا اور چانگ چو میں موجودگی کو پھیلایا ہے، نہ چین کی مارکیٹ کے لحاظ سے صرف اپنی بہترین انتظامی و تزویراتیوژن کا مظاہرہ کیا ہے، بلکہ چانگ چو نیشنل ہائی ٹیک ڈسٹرکٹ میں سرمایہ کاری کے موزوں کو ماحول میں بھی۔ چانگ تائی شان، چیئرمینمنگ سائیکل انڈسٹریل، نے ایسی اعلیٰ معیار کی، باسہولت اور موثر خدمات کی فراہمی کے لیے افتتاحی تقریب میں شہری و مقامی ضلعی سطح کے حکومتی اداروں کو سراہا۔ اب تک 228 معروف تائیوانی ادارے جن میں منگ سائیکل انڈسٹریل اور کائمکو بھی چانگ چو نیشنل ہائی ٹیک ڈسٹرکٹ میں تنصیبات بنا چکے ہیں، 300 سے زیادہ تائیوانی ایگزیکٹوز نے یہاں مستقل رہائش کا انتخاب کیا ہے۔