پاکستان نے عالمی عدم استحکام کے درمیان فوری زرعی خوراک کی تبدیلی پر زور دیا

بلوچستان میں جان لیوا شاہراہوں کے حادثات سے نمٹنے کے لیے ٹریکر سسٹم کا نفاذ

پولیس نے منشیات اور اسلحے کی بڑی کھیپ پکڑ لی، 14 ملزمان گرفتار

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 68 ارب روپے مختص

سندھ حکومت کا بڑے امدادی پیکیج کا اعلان، گل پلازہ متاثرین میں ابتدائی چیک تقسیم

گورنر سندھ نے دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں پر فورسز کو سراہا، بچے کی شہادت پر دکھ کا اظہار کیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

اگر شفاف انتخابات میں بدنیتی ہو گی تو مداخلت کریں گے: چیف جسٹس

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کہ اگر شفاف انتخابات میں بدنیتی ہو گی تو مداخلت کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز سپریم کورٹ میں سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں برابری کا موقع ملنا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کو نگران حکومت کو تبادلوں کا کھلا اختیار نہیں دینا چاہیے۔ نگران حکومت سے الیکشن کمیشن کو ایسے تبادلے سے متعلق پوچھنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ بعض اوقات سپریم کورٹ کی باتوں کو غلط سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے ایک کیس میں کہا کہ 1988میں ایک ایماندار وزیر اعظم تھا ہماری اس بات کو پارلیمنٹ نے غلط سمجھا۔چیف جسٹس نے مقدمے کے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ نہیں کہا کہ آج تک صرف ایک ہی ایماندار وزیر اعظم آیا۔ ہم نے آئینی اداروں کو اپنے فیصلوں میں تحفظ دیا ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدلیہ پر بھی حملے ہو رہے ہیں، عدلیہ کا بھی تحفظ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے جسے آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جا رہا ہے۔ ہم صبر اور درگزر سے کام لے کر آئینی ادارے کا تحفظ کریں گے۔آئینی اداروں کو بدنام کرنے والی ان آڈیو ٹیپس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔