کو ئٹہ(پی پی آ ئی) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مالی بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور اگر اس سہ ماہی میں این ایف سی ایوارد کے تحت طے شدہ رقم فراہم نہیں کی گئی تو حکومت کے لیے تنخواہوں کی ادائیگی مشکل ہو جائے گی۔میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اس سہ ماہی میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق سے بلوچستان کو 45 ارب روپے ملنے تھے لیکن تاحال اس کا 10فیصد بھی نہیں ملا ہے۔ اگر این ایف سی کا طے شدہ سہ ماہی حصہ نہ ملا تو ملازمین کی تنخواہیں بھی نہیں دے سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہ کا ریاں ہوئیں،ہم نے اب تک سیلاب کے دوران امداد و بحالی کے لیے آٹھ ارب روپے جاری کی ہیں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلایا ہے اور نہ ہی پھیلائیں گے،اپنے لوگوں کی خود مدد کریں گے، مرکز سے کسی قسم کا اضافی مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم صرف اپنا آئینی طور پر طے شدہ حصہ مانگ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے رواں مالی سال کا ترقیاتی پروگرام میں این ایف سی کے تحت ملنے والے حصے کے مطابق بنایا اور ہماری اولین ترجیح جاری جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جاری منصوبوں کے لیے اب تک 70 ارب روپے کا اجرا کیا جا چکا ہے اور موجودہ حکومت نے گذشتہ حکومت کی کسی بھی جاری سکیم کو نہیں روکا۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے مالی بحران کو میڈیا میں نہیں لانا چاہتے تھے لیکن سیاسی قائدین کو اعتماد میں لینے کے لیے میڈیا میں آنا پڑا۔ بلوچستان کے مالی بحران کو وزیراعظم کے سامنے رکھیں گے اور امید ہے کہ وزیراعظم نے جس طرح پہلے ہماری بات سنی ہے اب بھی سنیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گیس رائیلٹی کی مد میں بھی مرکز پر ہمارے 40 ارب روپے کے پرانے واجبات ہیں اور اگر ہمیں وفاق سے ہمارا حصہ مل جاتا ہے تو ہم اپنی مدد آپ کے تحت سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کر سکتے ہیں۔
Next Post
سردی بڑھتے ہی حکومت نے شہریوں پر ’گیس بم‘گرادیا ایل پی جی کی قیمت میں 11روپے 79پیسے فی کلو اضافہ کردیا
Wed Nov 30 , 2022
اسلام آباد(پی پی آ ئی) سردی بڑھتے ہی حکومت نے شہریوں پر ’گیس بم‘ گرادیا۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے غریب کیلئے ایک اور پریشانی پیدا کرتے ہوئے ایل پی جی کی قیمت میں 11روپے 79پیسے فی کلو اضافہ کر دیا۔اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیموں […]
