بدین میں پانی کی مصنوعی قلت کے باعث دھان کی زیر کاشت فصل شدید متاثر

غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں معمولی کمی ، اوپن مارکیٹ: ڈالر، یورو اور پاؤنڈ سستے ہوگئے

عالمی منڈی میں تیل سستا، حکومت بھی عوام کو فوری ریلیف دے: پاسبان

ڈی پی او جھنگ کا دورہ گڑھ مہاراجہ دربار حضرت سلطان باھوؒ

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر بطور ثالث دستخط کردئیے

چیئرمین ایس ای سی پی کا دورہ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پنجاب، خیبرپختونخوا میں قانون میں پولیس افسران کے تبادلے پر پابندی

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پولیس افسران کے قانون میں درج وقت سے پہلے تبادلوں سے روک دیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے پولیس افسران کے سیاسی بنیادوں پرتبادلوں کے خلاف کیس پر سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جرائم اور عدم تحفظ کی وجہ سے عوام متاثر ہو رہے ہیں، عوام کے متاثر ہونے کی وجہ سے عدالت نے پولیس افسران کے تبادلوں اور تقرریوں کا نوٹس لیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پولیس کی بے ربط ٹرانسفر پوسٹنگ سے سارا نظام متاثر ہوتا ہے، قانون کے مطابق 3 سال سے پہلے سی پی او یا ڈی پی او کو ہٹایا نہیں جاسکتا، ڈی پی او اور سی پی او تعینات کرنا آئی جی کا اختیار ہے، کیا تمام تعیناتیاں آئی جی کرتے ہیں؟۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہی عمران خان حملے کا مقدمہ درج نہیں ہورہا تھا، سپریم کورٹ کو اندراج مقدمہ کاحکم دینا پڑا کیونکہ کئی دن گزر چکے تھے، پنجاب حکومت خود قانون پر عمل کرے تو عدالتی حکم کی ضرورت نہیں پڑیگی۔سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو پولیس آرڈر 2002 پر عمل درآمد کا حکم دیتے ہوئے نے پولیس افسران کے قانون میں درج وقت سے پہلے تبادلوں سے روک دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ مقررہ وقت سے پہلے تبادلہ ناگزیر ہو تو وجوہات تحریر کی جائیں۔عدالت عظمیٰ نے تمام صوبوں اور اسلام آباد کی انتظامیہ سے گزشتہ 10 سال میں پولیس افسران کے تبادلوں کی فہرستیں طلب کر لیں۔ کیس کی مزید سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے میں ہوگی۔