پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیرمیں اربوں روپے مالیت کی شہریوں کی املاک ضبط کر لی گئیں:وائس آف امریکہ کی رپورٹ

سری نگر(پی پی آ ئی)بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے حالیہ ہفتوں میں جماعت اسلامی کے زیر ملکیت بیسیوں املاک کو ضبط کر لیا، جس سے طویل عرصے سے مسلم اکثریتی مقبوضہ علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔کشمیر میڈیا کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کے محیط الاسلام کی مرتب کردہ ایک رپورٹ املاک کی ضبطی کی تازہ ترین کارروائیوں میں کہاگیا ہے کہ ریاستی تحقیقاتی ادارے ایس آئی اے کی تجویز پر کم سے کم 20املاک ضبط کی گئی ہیں۔ مزید درجنوں املاک کو بھی ضبط کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔20دسمبر کو بھارتی فورسز کو کشمیری حریت رہنماسید علی گیلانی کے دو منزلہ گھر کو ضبط کرنے کیلئے ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔یہ چھاپہ بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے پولیس کے ساتھ مل کر مارا۔سیدعلی گیلانی کے خاندان کے ایک رکن نے سرکاری انتقامی کارروائی کے خوف سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر VOA سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ “شاید، یہ جائیداد جماعت اسلامی کی تھی، جسے قابض انتظامیہ نے ایک کالعدم تنظیم قراردے دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے جماعت اسلامی پر 5 سال کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی کے بعد اسکے ہیڈ آفس کو سیل کر دیا گیا۔2019میں مودی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد این آئی اے نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے کیلئے بڑی تعداد میں چھاپے مارے اور بہت سے املاک کو ضبط کر لیاگیا۔ 18دسمبر کوایس آئی اے نے وادی کے کئی اضلاع میں ایک ارب روپے مالیت کی جماعت اسلامی کی جائیدادیں ضبط کی تھیں۔ایجنسی نے جماعت اسلامی کی زیر ملکیت مزید188جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں ضبط کیاجائے گا۔وائس آف امریکہ نے جماعت اسلامی کے متعدد ارکان سے رابطہ کیا تاہم انہوں نے خوف سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔