پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جنوبی ایشیامیں پائیدار امن و سلامتی کیلئے دیرینہ تنازعہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے:مصطفی کمال ا کا یا

انقرہ /سری نگر(پی پی آ ئی)ترکیہ کے سعادت پارٹی کے سینئر نائب صدر مصطفی کمال ا کا یا نے کہاہے کہ جنوبی ایشیامیں پائیدار امن و سلامتی کیلئے دیرینہ تنازعہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔کشمیرمیڈیاکے مطابق مصطفی کمال ا کا یا نے ان خیالات کا اظہار انقرہ میں پارٹی کے صدر دفتر میں جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے رہنماعبدالرشید ترابی کی قیادت میں کشمیری وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ حل طلب تنازعہ کشمیر کو ہم اپنے پارٹی منشور میں شا مل کرتے ہوئے اقوام عالم کو اس دیرینہ مسئلہ کے حل کیلئے بھرپور مہم چلانے کا اہتمام کریں گے۔ خطے اور عالمی امن کے تحفظ کیلئے مسئلہ کا حل عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کا نفرنسوں اور سیمینارز میں مسئلہ کشمیر ہمیشہ سے ایجنڈے کا مستقل حصہ رہا ہے اورمسلم حکمرانوں کو کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل کے حل کیلئے موثر کردار ادا کرنا چا ہیے۔ عبدالرشید ترابی نے اس موقع پر کہا کہ ہم ترکیہ کے زلزلہ زدگان سے اہلیان کشمیر کی طرف سے اظہار یکجہتی کیلئے آئے ہیں کشمیر اور پاکستان کا بچہ بچہ اپنے تر ک بھائیوں کے غم میں برابر کا شریک ہے اور متاثرین کی بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہتاہے۔انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کشمیریوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتی ہے اوربھارت میں مسلمانوں کو تیسرے درجے کا شہری بنادیاگیاہے۔مسلمانوں کی تہذیب وتمدن اور شناختی علامات کومٹایا جا رہا ہے۔ وفد میں شامل کشمیری حریت رہنماسیداعجازرحمانی نے مصطفی کمال کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے آگاہ کیا۔وفد میں پاکستان ترکیہ یکجہتی فورم کے چیئرمین ڈاکٹر ندیم چوہدری اور تحریک کشمیر ترکیہ کے کنونیر طلحہ شیخ بھی شامل تھے۔