سری نگر(پی پی آئی) بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال گوانتاناموبے سے بھی بدتر ہے۔جب سے مقبوضہ وادی میں جی 20اجلاس کے انعقاد کی تیاریاں شروع ہوئی ہیں، حکام نے سینکڑوں مقامی نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔کشمیر میڈیا کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب سے گروپ20کے اجلاس کے انعقاد کا عمل شروع ہوا ہے، نوجوانوں کی گرفتاری، تشدد اور پوچھ گچھ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے،لوگوں کو تھانوں میں بلایا جاتاہے اور جنوبی کشمیر کے سینکڑوں نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ پونچھ میں ظلم و ستم جاری ہے، لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح جموں وکشمیر کے سابق گورنرستیہ پال ملک نے کہا کہ جب 2019میں پلوامہ حملہ ہوا تھا (جس میں سی آر پی ایف کے 40 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے)تو ان سے خاموش رہنے کو کہا گیا تھا، اس لیے امید ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیاں گہرائی سے تحقیقات کریں گی کہ پونچھ حملہ اتنی بڑی تعداد میں فور سز اہلکاروں کی موجودگی کے باوجوداور اتنے محفوظ علاقے میں کیسے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہو تاکہ سچ سامنے آئے۔