شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جیلوں میں خواتین سے بدسلوکی پر کوئی شک تھا تو وزیرِداخلہ کی پریس کانفرس کے بعد اب دور ہو گیا ہے:عمران خان

لاہور(پی پی آ ئی) پی ٹی آئی چیئر مین او ر سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر جیلوں میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے بارے میں کوئی شک تھا تو وزیِرداخلہ کی پریس کانفرنس نے ایسے تمام شکوک و شبہات کو دور کر دیا ہے۔عمران خان نے الزام عائد کیا کہ وہ واضح طور پر ان خوفناک کہانیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں جو میڈیا میں منظرِعام پر آنے والی ہیں۔عمران خان نے الزام عائد کیا کہ کبھی بھی ریاست کی طرف سے خواتین کے ساتھ اتنا برا سلوک اور ہراساں نہیں کیا گیا جتنا اس فاشسٹ حکومت نے انھیں احتجاج کا حق استعمال کرنے پر کیا ہے۔یاد رہے گذشتہ رات گئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی ایجنسیوں نے ایک گفتگو پکڑی ہے جس میں مبینہ طور پر دو طرح کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی اور اس پر آج رات ہی عمل ہونا تھا اس لیے رات کو ہی لوگوں کو یہ آگاہ کرنا ضروری تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’گفتگو میں ایک تو پی ٹی آئی کے رہنما کے گھر پر چھاپے کی منصوبہ بندی سے متعلق ہے جس میں کوشش کی جاتی کہ خون خرابہ ہوتا اور پھر دنیا کو بتایا جاتا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور دوسرا یہ کہ ریپ ایکٹ کیا جائے، مقصد تھا کہ ریپ کا الزام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لگایا جائے اور یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے۔