پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

القادر ٹرسٹ سے متعلق معاملہ کابینہ میں آنے سے قبل میں میٹنگ چھوڑ کر جا چکا تھا: شیخ رشید

راولپنڈی(پی پی آ ئی) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے نیب کو آگاہ کیا ہے کہ ان کے پاس بطور گواہ القادر ٹرسٹ کیس سے متعلق نہ تو کوئی شواہد ہیں اور نہ ہی دستاویزات جو وہ تفتیش کے دوران نیب کے سامنے پیش کر سکیں۔سماجی را بطے کی ویب سا ئٹ ٹو ئٹر پر شیخ رشید نے نیب کو لکھے گئے اپنے جواب کی کاپی شیئر کی ہے۔شیخ رشید نے اپنے مختصر جواب میں کہا کہ ’میرے پاس القادر ٹرسٹ کیس کے حوالے سے کوئی دستاویز یا شواہد نیب میں پیش کرنے کے لیے موجود نہیں ہیں۔انھوں نے اپنے جواب میں دعویٰ کیا کہ کابینہ کی 13 دسمبر 2019 کی میٹنگ میں وہ اْس وقت موجود نہیں تھے جب القادر ٹرسٹ سے متعلق آئٹم بحث کے لیے پیش کیا گیا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی میٹنگ چھوڑ کر جا چکے تھے۔شیح رشید نے کہا کہ اسی لیے ان کے پاس نہ تو اس حوالے سے کوئی معلومات ہیں اور نہ ہی شواہد۔ ’اس کے علاوہ میرے مرزا شہزاد اکبر (مشیر احتساب) کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے اور ہماری درمیان بات چیت بھی نہیں تھی۔یاد رہے کہ نیب القادر ٹرسٹ کیس کی تحقیقات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں سابق وفاقی وزیر کو بطور گواہ (30 مئی) نیب کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔