پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پشاور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری کیخلاف وفاق کی درخواست خارج

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی تقرری کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواستیں دو ایک کی اکثریت سے خارج کر دی ہیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر نے ان درخواستوں کو خارج کیا جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی تقرری کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی جس کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز جسٹس فہیم ولی، جسٹس اعجاز خان اور جسٹس کامران حیات کی منظوری دی جبکہ فضل سبحان، شاہد خان اور خورشید اقبال کے نام واپس بھجوائے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 175 اے کے تحت کہاں لکھا ہے کہ ججز کی نامزدگی کا اختیار صرف متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو حاصل ہے؟جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ میں جب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ تھا تو جوڈیشل کمیشن کے ہر ممبر سے مشاورت کرتا تھا، ہائیکورٹ میں ججز نامزدگی کا حتمی اختیار متعلقہ چیف جسٹس کو ہی حاصل ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کیا ججز کی تقرری میں اندھا دھند سینیارٹی کے اصول کو دیکھا جائے اور قابلیت کو بالائے طاق رکھیں؟ کیا ججز کی تقرری میں سینیارٹی اصول کے ساتھ میرٹ کو نہیں دیکھنا چاہیے؟جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ کیا جوڈیشل کمیشن کے معاملات پر پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری جوڈیشل ریویو کر سکتی ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا پارلیمنٹری کمیٹی جوڈیشل کمیشن کو تجویز دے سکتی ہے؟ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔