روبوٹکس بینکنگ کسٹمر کے تجربے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار

انشورنس انڈسٹری کا بجٹ مذاکرات میں مالیاتی اصلاحات کے لیے زور

سندھ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امداد کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی

دارالحکومت میں وسیع سرچ آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد

پولیس چیف کی سنگین جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت

اعلیٰ سطحی فلسطینی مذاکرات کے دوران پاکستان کا غزہ پر گہرے دکھ کا اظہار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پشاور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تقرری کیخلاف وفاق کی درخواست خارج

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی تقرری کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواستیں دو ایک کی اکثریت سے خارج کر دی ہیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر نے ان درخواستوں کو خارج کیا جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی تقرری کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی جس کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز جسٹس فہیم ولی، جسٹس اعجاز خان اور جسٹس کامران حیات کی منظوری دی جبکہ فضل سبحان، شاہد خان اور خورشید اقبال کے نام واپس بھجوائے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 175 اے کے تحت کہاں لکھا ہے کہ ججز کی نامزدگی کا اختیار صرف متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو حاصل ہے؟جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ میں جب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ تھا تو جوڈیشل کمیشن کے ہر ممبر سے مشاورت کرتا تھا، ہائیکورٹ میں ججز نامزدگی کا حتمی اختیار متعلقہ چیف جسٹس کو ہی حاصل ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کیا ججز کی تقرری میں اندھا دھند سینیارٹی کے اصول کو دیکھا جائے اور قابلیت کو بالائے طاق رکھیں؟ کیا ججز کی تقرری میں سینیارٹی اصول کے ساتھ میرٹ کو نہیں دیکھنا چاہیے؟جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ کیا جوڈیشل کمیشن کے معاملات پر پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری جوڈیشل ریویو کر سکتی ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا پارلیمنٹری کمیٹی جوڈیشل کمیشن کو تجویز دے سکتی ہے؟ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔