شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

انڈین کلبوشن جادھو کی اپیل کا خصوصی قانون بنایا گیا: وکیل جواد ایس خواجہ

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل احمد حسین نے فوجی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ کو بتایا کہ فیئر ٹرائل ہر ایک کا بنیادی حق ہے، جس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔وکیل احمد حسین نے کہا کہ کورٹ مارشل کارروائی کے فیصلے آسانی سے میسر بھی نہیں ہوتے۔جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی کرتا کون ہے؟۔وکیل کے مطابق ایک پینل ہوتا ہے جو یہ کارروائی کنڈکٹ کرتا ہے، ملٹری کورٹ فیصلے میں صرف اتنا لکھتی ہے کہ قصور وار ہے یا نہیں۔ اب فیصلے میں وجوہات کا ذکر ہوتا ہے یا نہیں اٹارنی جنرل بتا سکتے ہیں۔وکیل کے مطابق ملٹری کورٹس میں اپیل کا تصور بھی آرمی افسران کے پاس ہی ہے۔ آرمی چیف ہی سارے پراسس میں فائنل اتھارٹی ہیں۔ان کے مطابق انڈین کلبوشن جادھو کی اپیل کا خصوصی قانون بنایا گیا۔وکیل احمد حسین نے کہا کہ کلبھوشن جادھو کے لیے قانون بنایا گیا کہ دیکھا جائے اس غیر ملکی کے ویانا کنونشن میں حاصل حقوق متاثر تو نہیں ہوئے۔ان کے مطابق پہلے سے موجود قانون میں سویلین کے لیے فیئر ٹرائل جیسی چیزیں موجود نہیں تھیں۔ آرمی ایکٹ ڈیزائن ہی فوسز کے اندر ڈسپلن کیلئے کیا گیا تھا۔