ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے لاکھوں نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ

کبھی کبھی انسان کی اپنی ہی ایجاد  وبال جان بن سکتی ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت زندگی کے ہرشعبے میں جہاں انقلاب برپا کر رہی ہے۔ وہیں وہ مستقبل قریب میں ہزاروں نہیں لاکھوں افراد کے لئے روز گار کا خطرہ بھی بن جائے گی۔یانٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور انٹر نیشنل ڈیٹا کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس عالمی سطح پر64 فیصد نوکریاں ختم کردے گی۔ صرف امریکا میں 74 فیصد افراد نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ایشیامیں پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور بھوٹان جبکہ افریقی ممالک میں زمبیا اور انگولا کے بیشتر ملازمین کی نوکریاں ختم ہوجائیں گی۔یرپورٹ کے مطابق کم تعلیم یافتہ اورمحدود ہنر مند ملازمین کے لئے 280 فیصد جبکہ اعلی تعلیم اور جدید مہارت یافتہ 34 فیصد افراد کے بے روز گار ہونے کا خدشہ ہے۔یاسٹنٹ پروفیسر اے آئی ڈاکٹر وقاص کا کہنا ہے کہ اس وقت زیادہ تر پاکستانی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور گلف کے دیگر ممالک میں برسر روزگار ہیں۔ جہاں کمپنیوں میں جد?د ٹ?کنالوج، کے نفاذ سے ملازمتوں کا منظر نامہ بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بہت جلد اب ان کمپنیوں میں انسان کی جگہ روبوٹ کام کرتے نظر آئیں گے۔ مڈل ایسٹ میں ایران، عمان اور مصر جبکہ یورپ میں آرمینیا، اسٹونیا اورمیسیڈونیا کے زیادہ تر ملازمین آٹو میشن کا شکار ہو جائیں گے۔یڈاکٹر وقاص کا خیال ہے کہ دوسرے براعظموں کی طرح امریکہ میں جنوبی ممالک بولیویا، میکسیکو اور سینٹ لوسیا میں بیشتر افراد نوکریوں کے لئے تگ ودو کریں گے۔