خیبر پختونخوا میں جنگلات کے مالکان کی جرگہ منعقد؛ وزیر اعلیٰ کے مشیر کی شرکت

جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کی ہلاکتیں؛ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس

جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد؛ کلیدی فیصلے کیے گئے

وزیر داخلہ نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم سے اہم ملاقات کی؛ قومی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال

بلوچستان ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت صنفی بنیاد پر تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل پر ‘صوبائی میڈیا فیلوشپ پروگرام’ کا آغاز

اوپن مارکیٹ میں ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں کی قدر میں معمولی اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سابق پاکستانی آف اسپنر ثقلین مشتاق اپنی ہی ٹیم سے مقابلے کے لیے تیار

میرپور: سابق پاکستانی آف اسپنر ثقلین مشتاق ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اہم میچ میں اپنے ہی ملک کے خلاف نبرد آزما ہوں گے ۔ویسٹ انڈین بولنگ کوچ ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ میںنے ویسٹ انڈیز کی شرٹ دل سے پہنی ہے اور امید ہے میری ٹیم جیت جائے گی۔ اس میچ کا فاتح گروپ 2سے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والا دوسرا ملک ہوگا۔ ثقلین مشتاق نے ویسٹ انڈیز کے اہم میچ کے حوالے سے میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ مذہبی نقطہ نظر سے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کر سکتاکہ کون جیتے گالیکن ہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ جو ٹیم اچھا کھیلے وہ جیتے گی۔میری نیک خواہشات میری ٹیم کے ساتھ ہیں اور میری ٹیم ویسٹ انڈیز ہے،یہ میرا یقین اور جذبہ ہے ، مجھے ایمانداری کا ثبوت دینا چاہےے اور میں ایسا ہی کروںگا۔ ویسٹ انڈیز کی جر سی کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شرٹ صر ف جسم پر ہی نہیں بلکہ اس کی جگہ دل میںہونی چاہیے۔ ثقلین مشتاق پچھلے سال بنگلہ دیش ٹیم کی کوچنگ کے فرائض سر انجام دے رہے تھے لیکن اب ویسٹ انڈیز کے ڈریسنگ روم میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، ان کا اس بات پرزورتھا کہ اسے اپنی کام کے ساتھ دیانت دار ہوناہے۔ سابق آف اسپنر کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ ایک عظیم موقع ہے کہ میں عظیم ٹیم کی نمائندگی کر رہاہوں ، بچپن میں ویسٹ انڈیز کے عظیم کھلاڑ یوں سر وی وی رچرڈز اور سر گیری سوبرزکی وجہ سے میں اس ٹیم کا مداح تھا۔ثقلین مشتاق کرکٹ میںدوسرا متعارف کرانے والے پہلے اسپنر ہیں ، سعید اجمل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کہنا تھا کہ سعید اجمل چند سالوںسے پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں ، اب ٹیکنالوجی کا دور ہے اس لیے جب کوئی بیٹمسمین میرے پاس اجمل سے نمٹنے کے لیے گر سیکھنے آتا ہے تو میں انھیں بتا تاہوںکہ اجمل کس طرح اورکیسے بال کو اسپن کرتاہے۔انھوں نے کہا کہ یہ کام کا حصہ ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کاستعمال کیا جائے تو وہ ہمیں سب کچھ واضح طور بتاتی ہے کوئی چیز ہم سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔