کراچی لیاری میں رہائشی عمارت کا چھجہ گیا ، جانی نقصان نہیں ہوا

یورو، پاؤنڈ، ین کی شرح تبادلہ میں معمولی اضافہ جب کہ امریکی ڈالر مستحکم

ملک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 24 ہزار 536 روپے کا ہوگیا

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی چاند کا عالمی دن منایا گیا

پیپلز پارٹی لاہور کا ہفتہ کو مینارِ پاکستان پر پاور شو ہوگا ،تیاریاں زوروں پر

اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد مثبت اختتام، انڈیکس 124 پوائنٹس اضافے سے بند

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

حلقہ بندیوں پر اعتراضات ہورہے ہیں الیکشن جنوری میں نہیں فروری میں ہوں،راجہ ریاض

لاہور(پی پی آ ئی) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء راجہ ریاض نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات ہورہے ہیں الیکشن جنوری میں نہیں ہوں گے،الیکشن فروری کے درمیان میں ہوں گے کوئی تاخیر نہیں ہورہی، فروری میں الیکشن کیلئے مولانا فضل الرحمان بھی مان جائیں گے،پیپلزپارٹی سندھ میں نگران حکومت کے مزے لوٹ رہی جبکہ اسمارٹ گیم کھیل کر تاثر دے رہی کہ وہ اپوزیشن ہے۔انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی 16ماہ کی حکومت سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کررہی ہے، مردم شماری پر دستخط کا واضح مطلب تھا کہ حلقہ بندیاں ہوں گی، پیپلزپارٹی عوام میں تاثر دے رہی کہ وہ فوری الیکشن چاہتی ہے، پیپلزپارٹی نے بھی مردم شماری پر دستخط کئے الیکشن میں تاخیر تو ہونی تھی، پیپلزپارٹی عوام میں کچھ تاثر دے رہی درپردہ کچھ اور بات ہے، پیپلزپارٹی سندھ میں نگران حکومت کے پورے مزے لوٹ رہی ہے، پیپلزپارٹی اسمارٹ گیم کھیل کر تاثر دے رہی کہ وہ اپوزیشن ہے، حلقہ بندیوں پر اعتراضات ہورہے ہیں الیکشن جنوری میں نہیں ہوں گے، فروری کے درمیان میں الیکشن ہونے ہیں تاخیر نہیں ہورہی، فروری میں الیکشن کیلئے مولانا فضل الرحمان بھی مان جائیں گے، 15فروری کے آس پاس الیکشن ہوجائیں گے۔نوازشریف بھی آرہے ہیں زیادہ واضح ہوگیا کہ الیکشن ہونے ہیں۔پاکستان کے عوام جس طرح مشکل کی زندگی گزار رہے ہیں،جس طرح عوام پر مہنگائی، بچوں کی تعلیم کا بوجھ ہے، ہمیں عوام کی مشکلات کو کم کرنا چاہیئے، عوام کو امید ہے نوازشریف ہی انہیں مسائل سے نکال سکتے ہیں،ماضی کو نہیں بلکہ معیشت کی کی بہتری کی طرف دیکھیں گے، شہبازشریف نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا، اگر ڈیفالٹ ہوتا تو آج ملک میں 500روپے لیٹر تیل ہوتا، عمران خان معاشی داخلی اور خارجہ سطح پر بیڑہ غرق کرکے گئے تھے۔