ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 آف شور اکاؤنٹس میں پاکستانیوں کے 19 ارب 20 کروڑ ڈالرز موجود

 اسلام آباد (پی پی آئی)ٹیکس چوری کے حوالے سے جاری ”گلوبل ٹیکس کمیشن رپورٹ“ میں کہا گیا ہے کہ آف شور اکاؤنٹس میں پاکستانیوں کے 19 ارب 20 کروڑ ڈالرز موجود ہیں، اس میں آدھی سے زیادہ رقم سے دبئی میں رئیل اسٹیٹ کے اندر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ پانامہ لیکس کے بعد پاکستانیوں نے بھاری رقم سوئس بینک سے منتقل کی ہیں۔پی پی آئی کے مطابق ماہر مالیاتی امور ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا ہے کہ بینفیشل آف شور کا قانون پاکستان میں بھی نافذ کیا گیا کہ اگر آپ کا باہر کسی بھی کمپنی میں کوئی بینیفیشل انٹرسٹ ہے چاہے وہ ٹرسٹ کی شکل میں ہو یا آف شور کمپنی کی صورت میں تو آپ اس کو ڈیکلئر کردیں، اس کی حد رکھی گئی تھی کہ 10 فیصد بھی آپ کا انٹرسٹ ہے تو آپ کو اسے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن اور انکم ٹیکس کے ریٹرن میں ڈیکلئر کرنا ہو گا۔ایک انٹرویو میں اکرام الحق نے کہا کہ چونکہ ”گلوبل ٹیکس کمیشن رپورٹ“پرانی ہے اسلئے اس میں بیان کردہ اعداد  کم ہیں، یہ بہت زیادہ ہو سکتے ہیں، پاکستانیوں کی صرف ڈیکلئیرڈ رقم ہی اس سے زیادہ ہے۔ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ ہمیں ابھی ورجن آئی لینڈ کے بارے میں تو پتہ بھی نہیں، کیونکہ یکم جنوری 2024 سے دنیا میں ایک نیا قانون نافذ ہوگا جس میں ان ٹیکس ہیونز کا ڈیٹا ملنے کا امکان ہے۔ پانامہ لیکس میں جن 475 لوگوں کے نام آئے تھے انہوں نے 2018-19 میں ایمنسٹیز کے ذریعے سب وائٹ کرلیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے بہت بڑی کھلبلی مچے گی، جنوری میں پانامہ سے بہت بڑا اسکینڈل آنے کو تیار ہے۔