کراچی لیاری میں رہائشی عمارت کا چھجہ گیا ، جانی نقصان نہیں ہوا

یورو، پاؤنڈ، ین کی شرح تبادلہ میں معمولی اضافہ جب کہ امریکی ڈالر مستحکم

ملک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 24 ہزار 536 روپے کا ہوگیا

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی چاند کا عالمی دن منایا گیا

پیپلز پارٹی لاہور کا ہفتہ کو مینارِ پاکستان پر پاور شو ہوگا ،تیاریاں زوروں پر

اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد مثبت اختتام، انڈیکس 124 پوائنٹس اضافے سے بند

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری پاکستانی قوم کا خاصہ ہیں،مسعود خان

اسلام آباد(پی پی آئی)پاکستانی سفارت خانہ واشنگٹن ڈی سی میں کرسمس کے حوالے سے خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔مسعود خان نے کہا کہ مسیحی برادری کی پاکستانی معاشرے، معیشت، سیاست، تعلیم میں گراں قدر خدمات ہیں۔سفیر پاکستان مسعود خان نے یہ بات کرسمس کے حوالے سے سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ جڑانوالہ کے واقعے نے پاکستان کو تعصب کے خلاف متحد کیا اور پاکستان رواداری، تکثیریت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔مسعود خان نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کا جذبہ پاکستانی قوم کا خاصہ ہیں اور پاکستانی عوام روادار معاشرے کو تشکیل دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری پاکستانی معاشرے اور ریاست کا لازمی جزو ہے اور ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔سفیر پاکستان مسعود خان نے یہ بات کرسمس کے حوالے سے سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔تقریب میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور ہندوں سمیت تمام مذاہب کے مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ یہ تقریب بین المذاہب ہم آہنگی اور دیگر مذاہب کے احترام کے حوالے سے پاکستان کی عملی کوششوں کی عکاس تھی۔پاکستان میں مسیحی برادری کی جانب سے پیش کی جانے والی اہم خدمات کا ذکر کرتے ہوئے مسعود خان نے عدلیہ، سول سروس، مسلح افواج، پارلیمنٹ، تعلیم اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں سمیت قومی زندگی کے مرکزی دھارے میں مسیحی کمیونٹی کے افراد کی نمایاں موجودگی کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم مسیحی برادری کی خدمات کے مشکور ہیں۔رواں سال جڑانوالہ کے ہولناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ اس واقعے پر پوری پاکستانی قوم غمزدہ اور صدمے سے دوچار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت اور سول سوسائٹی متاثرہ کمیونٹی کے ساتھ کھڑی تھی اور متاثرہ مسیحی برادری سے اظہار یک جہتی کے لئے نہ صرف ان کی تباہ شدہ املاک کی تعمیر میں مدد کی پیشکش کی بلکہ انہیں اپنی عبادت گاہیں بھی پیش کیں۔مسعود خان نے کہا کہ اس واقعے نے بعض قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک قومی حکمت عملی (نیشنل پلان)بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے جو ہماری ترقی پسند ریاست کے لیے ضروری ہے۔سفیر نے کہا کہ آج ہم ایک خاندان کی مانند ہیں اور ہم اس رابطے کو برقرار رکھیں گے۔سفیر پاکستان نے کہا کہ 25 دسمبر یعنی کرسمس کا دن قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش بھی ہے اور اسی لئے پاکستانی قوم کے لئے اس موقع کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مسعود خان نے یہ بھی یاد کیا کہ آزاد جموں کشمیر کے صدر کی حیثیت سے ان کے دور میں کرسمس کے موقع پر مسیحی خاندانوں کو ایوان صدر میں خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا تھا۔اس موقع پر پاسٹر مائکل ٹریوٹ، ڈاکٹر جو نائٹ، رضوان جاکا، ڈیموکریٹ پارٹی لیڈر میری لینڈ عائشہ خان،،ریپبلیکن پارٹی رہنما شریلیکھا ریڈی، سکھ کمیونٹی کے لیڈر ڈاکڑ سریندر سنگھ اور سابق سینیٹر اکبر خواجہ نے بھی خطاب کیا اور تقریب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔