شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ڈاکٹر مجیب الدین صحرائی نے سندھ زرعی یونیورسٹی کا چارج سنبھال لیا

حیدرآباد: ڈاکٹر مجیب الدین صحرائی نے سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے وائس چانسلر کا چارج سنبھال لیا۔ مہران یونیورسٹی جامشورو کے پروفیسر ڈاکٹر مجیب الدین صحرائی نے سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے وائس چانسلر کے طور پر اپنی ذمیداریاں سنبھال لی ہیں ، اور آئندہ چار سال کے لیے یونیورسٹی کے سربراہ ہونگے، سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد صفر میرجت نے انھیں ایک مختصر تقریب میں چارج دیا۔ سندھ زرعی یونیورسٹی میں آمد کے دوران سینکڑوں ملازمین نے ان پر پھول نچھاور کرکے ان کا استقبال کیا، اس موقع پر اساتذہ تنظیم کے صدر لیاقت علی جمالی، ڈاکٹر جان محمد مری، مجاہد لغاری کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، دوسری جانب آل سندھ یونیورسٹیز ایمپلائیز فیڈریشن کے چیئر مین حسین بخش ویسر، محمد اسلم گھمرغلام نبی بھلائی، محمد حنیف جمالی، اور دیگر نے وائس چانسلر سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر صحرائی اس سے قبل مہران یونیورسٹی جام شورو میں ڈائریکٹوریٹ آف کنٹیونئنگ ایجوکیشن، ریسرچ، انوینشن اینڈ کمرشلائزنگ(سیرک) میں بطور ڈائریکٹرخدمات سرانجام دے رہے تھے، ڈاکٹر صحرائی خیرپورمیرس میں مہران یونیورسٹی کے انجنیئرنگ میں بانی پرنسپل بھی رہ چکے ہیں، وہ ایچ ای سی کے بیسٹ ٹیچر ایوارڈ اور بہترین تحقیقی مقالے لکھنے کے باعث تعرفی ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی کے ملازمین کے مسائل ترجیعی بنیادوں پر حل ہوں اور مہران یونیورسٹی کے ملازمین کو ملنے والی مراعات یکسان ہوں، اس موقع پر سابق وائیس چانسلر ڈاکٹر محمد صفر میرجت، ڈاکٹر شمس الدین تنیو، ڈاکٹر نور محمد سومرو، ڈاکٹر مقصود انور رستمانی، ڈاکٹر ظہیر الدین میرانی، ڈاکٹر الطاف سیال، ڈاکٹر صغیر احمد شیخ، مختلف انتظامی اور تدریسی شعبہ جات کے سربراہان بھی موجود تھے۔