اسلام آباد (پی پی آئی) یکم اپریل سے تاجروں سے انکم ٹیکس وصول کرنے کا نیا طریقہ کار نافذ ہوگیا ہے، جس میں ہول سیلرز، ہول سیکرز، فرنچائز، فرنیچر، جیولرز اور کیڑے مار ادویات کے اسٹورز کی رجسٹریشن لازمی ہوگی۔تفصیلات کے مطابق ایف بی آرنے ریٹیلرز کی پانچ کیٹیگریز کو یکم اپریل سے ٹیکس نیٹ میں شامل کیا ہے۔ تاجروں کو 5 بنیادی کیٹیگری میں انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ کیا جائے گا، تاجروں کی لازمی رجسٹریشن سے متعلق مسودہ اسکیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔پانچ بڑی کیٹیگریز میں ہول سیلرز،ڈیلرز، ریٹیلرز،فرنیچر اورڈیکوریشن شورومز وغیرہ شامل کئے گئے ہیں جبکہ کاسمیٹکس اسٹورز،گروسری، میڈیکل اور ہارڈویئر اسٹورزکو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائیگا۔ہول سیلرز، ہول سیکرز، فرنچائز، فرنیچر، جیولرز اور کیڑے مار ادویات کے اسٹورز کی رجسٹریشن لازمی ہوگی، رجسٹریشن کی اسکیم کا اطلاق ابتدائی طور پر چھ بڑے شہروں میں ہوگا، ان بڑے شہروں میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ اور پشاور شامل ہیں۔اسپیشل پروسیجرز فارا سمال ٹریڈرز اینڈ شاپ کیپرز کے نام سے اسکیم پر اسٹیک ہولڈرز سے آرا طلب کی گئی۔ملک بھر میں ڈیلرز، ری ٹیلرز، مینوفیکچررز اور امپورٹر کم ری ٹیلرز کیلئے رجسٹریشن کرانا لازمی قرار دیاگیا ہے، اسٹورز، دکانوں، ویئر ہاوسز، کاروباری دفاتر رجسٹریشن کے پابند ہوں گے۔ری ٹیلرز اور ہول سیلرز کی رجسٹریشن کرکے ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا، ہر ماہ کی مقررہ پندرہ تاریخ سے پہلے ٹیکس دینے کی صورت میں تاجروں کو 25 فیصد رعایت ملے گی۔تاجروں سے ٹیکس دوکان کی سالانہ رینٹل ویلیو کے حساب سے وصول کیا جائے گا اور ہر دوکاندار کو کم از کم سالانہ 1200 روہے انکم ٹیکس دینا ہوگا
Next Post
کشمیریوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسزکے فلیگ مارچ
Mon Apr 1 , 2024
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نام نہاد انتخابات کی آڑ میں بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز نے فلیگ مارچ کئے جن کا واحد مقصد کشمیری عوام کو خوفزدہ کرنا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق قابض بھارتی فورسز نے بڈگام، سرینگر اور مقبوضہ جموں وکشمیرکے دیگر […]
