کشمیری نظربندوں کو  بھارت کی انتقامی پالیسیوں سے ذہنی اور جسمانی تشدد کا سامنا

سری نگر/مقبوضہ کشمیر(پی پی آئی)دنیا بھر میں آباد کشمیریوں اور ان کی تنظیموں نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور قانون دانوں کے نام ایک مراسلے میں کشمیری سیاسی نظربندوں اور زیر سماعت قیدیوں کی حالت زار کو اجاگرکیاہے اور کہاہے کہ کشمیری نظربندوں کو کئی دہائیوں سے بھارتی حکومت کی انتقامی پالیسیوں کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی تشدد کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں قیدیوں کو علاج و معالجے سمیت تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے جس کی وجہ سے انہیں صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔دنیا بھر میں آباد کشمیریوں اور ان کی تنظیموں نے کہاکہ سب سے خوفناک اور گھناؤنا پہلو یہ ہے کہ بھارت نے کالے قوانین کے ذریعے جموں وکشمیرکو پابندیوں کے شکنجے میں کس کر الگ تھلگ کر دیا ہے اور کسی بھی آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ ریاست اور اس کی جیلوں یا تفتیشی مراکز کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔حریت رہنما نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ بھارت اور جموں و کشمیر کی مختلف جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی ابتر صورتحال کا نوٹس لے اور ان کی رہائی کے لیے بھارت پر دبا ؤڈالے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ قیدیوں کے والدین یا سرپرست پہلے ہی ایک دوسرے کو دیکھے بغیر دارفانی سے کوچ کر چکے ہیں۔محمد فاروق رحمانی نے کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کے حصول کے لئے کردار اداکرنے پر ہزاروں معلوم اور نامعلوم سیاسی نظربندوں، زیرِ سماعت قیدیوں اوران کے اہلخانہ کو خراج تحسین پیش کیا جن کو مختلف طریقوں سے مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک مقدس مقصد کے لیے ان کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

Latest from Blog