شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بھارت: اترپردیش کے بعد ہماچل پردیش میں بھی کھانے پینے کی دکانوں پر مالکان کے نام لکھنے کی ہدایت

نئی دہلی(پی پی آئی)بھارت میں اترپردیش کے بعدکانگریس کی قیادت والی ہماچل پردیش حکومت نے بھی ریاست میں کھانے پینے کی تمام دکانوں کوصارفین کے لیے”شفافیت”کے نام پر اپنے مالکان کے نام اور پتے آویزاں کرنے کی ہدایت دی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی ذرائع کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ یہ فیصلہ ریاست کی اربن ڈیولپمنٹ اور میونسپل کارپوریشن کے ایک اجلاس میں کیاگیا۔ ہماچل پردیش اسمبلی کے اسپیکر کلدیپ سنگھ پٹھانیا نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس فیصلے کااعلان کیا۔انہوں نے کہاکہ ہماچل میں ہر ریستوراں اور فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ کے لیے یہ لازمی ہو گا کہ وہ مالک کی شناخت ظاہر کرے تاکہ لوگوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے لیے اربن ڈیولپمنٹ اور میونسپل کارپوریشن کے ایک اجلاس میں ہدایات جاری کی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکم نامے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، کمیٹی میں وزیر وکرمادتیہ سنگھ اور انیرودھ سنگھ شامل ہیں۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جس اجلاس میں یہ فیصلہ لیا گیا وہ وکرمادتیہ سنگھ کے دفتر میں منعقد ہوا تھا اور اسے ریاست کی اسٹریٹ وینڈنگ پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے بلایا گیا تھا۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اس سال 15 دسمبر تک پالیسی کو حتمی شکل دینے کے بعد تمام اسٹریٹ وینڈرز اپنے شناختی کارڈ اور وینڈنگ لائسنس ظاہر کریں گے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکرمادتیہ نے کہاکہ گزشتہ کچھ دنوں میں ہماری ریاست میں بدامنی تھی۔ ہمارے فیصلے کسی دوسری ریاست سے متاثرہ نہیں ہیں۔ تمام دکانداروں کے لیے شناختی کارڈ ظاہر کرنا لازمی ہوگا، چاہے وہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی یا کسی اور برادری سے تعلق رکھتے ہوں۔یہ حکمنامہ اتر پردیش حکومت کی طرف سے جاری کردہ اسی طرح کی ہدایت کے بعدجاری کیاگیا ہے۔سب سے پہلے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے جولائی میں کانوڑ یاترا سے پہلے اس مسئلے کواٹھایا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس متنازعہ اقدام کو معطل کردیاتھا جسے فرقہ وارانہ تفریق اور امتیازی سلوک قراردیاگیاتھا۔واضح رہے کہ یہ حکمنامہ ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی مہم کا حصہ ہے۔