متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

آرٹس کونسل کراچی کا 21روزہ ”عوامی تھیٹر فیسٹیول“ اختتام پذیر

کراچی(پی پی آئی)آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیراہتمام 21روزہ ”عوامی تھیٹر فیسٹیول“ کا تھیٹر کی تمام رنگینی سمیٹے ہوئے اختتام پذیر ہوگیا، تقریب میں صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے خصوصی شرکت کی، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اور چیئرمین ڈرامہ کمیٹی شہزاد رضا نقوی نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ اقبال لطیف، شکیل شاہ، رضوان صابر، شبیر بھٹی، یونس میمن، وجیہہ وارثی، دانش بلوچ، تسنیم رانا، خادم حسین اچوی، ظہور ملک، حمید راٹھور، الیاس ندیم، آدم راٹھور، جمیل راہی، سلیم آفریدی، ذاکر مستانہ، پرویز صدیقی، ایچ اقبال، آفتاب کامدار، رؤف لالہ، علی روشن، نذر حسین، رفیق عیسانی، شیماکرمانی، نعمان خان اور زاہد شاہ سمیت معروف فنکاروں نے اختتامی تقریب میں شرکت کی، فیسٹیول میں اردو، سندھی، پشتو، سرائیکی،میمنی سمیت مختلف زبانوں میں 26 ڈرامے پیش کیے گئے، عوامی تھیٹر فیسٹیول میں مزاحیہ، سماجی و ثقافتی، سنجیدہ اور اصلاحی ہوئے جس میں خواہش، واہ سائیں واہ، داغ، غیبت، ہیر رانجھا کی چار کہانیاں، خوبصورت، گڈی ہٹیلی، جان حاضر ہے، بے وَس، زرپرست، منزل ہے آسماں، شردھانجلی، آس کے تنکے، سلیم کا ڈرامہ، رشتے، تاج تارا، یہ نہیں بتاؤں گا، دھڑیں جا دھڑاکا، بیوی۔بٹوا اور بٹوارہ، نافرمان، میثاقِ محبت، پرورش، منٹو میرا دوست، مذاقِ خاص،مستقبل اور بٹوارہ شامل ہیں، اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں جہاں ہر طرف انتشار ہے، ایسے میں کراچی میں اس قدر شاندار فیسٹیول کا انعقاد خوش آئند ہے، آرٹس کونسل کراچی اور محکمہ ثقافت سندھ فنکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے ایسے اقدامات کرتے رہیں گے، کامیاب عوامی تھیٹر فیسٹیول کے انعقاد پر احمد شاہ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، رؤف لالہ، شکیل صدیقی، عمر شریف جیسے بڑے آرٹسٹوں کے نہ صرف پاکستان بلکہ پڑوسی ملک میں بھی چرچے ہیں، محکمہ ثقافت سندھ کا تعاون ہمیشہ آرٹس کونسل کراچی کے ساتھ ہے، پورے سندھ میں جہاں پر بھی ثقافتی میلے ہوں گے وہاں آپ سب کے ڈرامے پیش کیے جائیں گے، آپ تمام فنکاروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ یہاں فنون لطیفہ کا گلدستہ سجایا، ہم خوش قسمت ہیں کہ سیاحت کے لیے ہمارے پاس دریا، پہاڑ اور برف سب موجود ہیں، میڈیا کا شکر گزار ہوں جو پاکستان کا سافٹ امیج دنیا بھر میں دکھا رہا ہے، محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے تمام ڈائریکٹرز کو 25، 25ہزار روپے دینے کا اعلان کرتا ہوں۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ کے لیے آرٹس کونسل نیا نہیں ان کے والد یہاں کے فاؤنڈر ممبر ہیں، ہم تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں فنکاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھی ہمیں ہی سوچنا ہوگا، ہم نے کورونا کی وباء میں فنکاروں کو ویکسین لگائی، ہمارا جینا مرنا آپ لوگوں کے ساتھ ہے۔