متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تھائی لینڈ کی آٹو موبائل صنعت میں مہارت سے پاکستان فائدہ اٹھائے،رونگ ودی ویرابوتر

کراچی /اسلام آباد18فروری (پی پی آئی)پاکستان میں تھائی لینڈ کے سفیر رونگ ودی ویرابوتر نے تھائی لینڈ اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) کو مکمل کرنے کے لیے کراچی چیمبر پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت پر ایف ٹی اے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے لیے دبا ¶ ڈالے جو یقینی طور پر دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ترجمان کے مطابق انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کے دوران ایف ٹی اے پر تبادلہ خیال کو تیز کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مذاکرات کچھ عرصے سے معطل ہیں لیکن ایف ٹی اے کو حتمی شکل دینا ان کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کراچی کی تاجر برادری بالخصوص کے سی سی آئی پر زور دیا کہ وہ ایف ٹی اے کی بروقت تکمیل کے لیے حمایت کریں۔ اگرچہ پاکستان کو مختلف ممالک سے پچھلے ایف ٹی ایز سے تجارتی خسارے کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ معاہدے صرف سامان کی تجارت تک محدود نہیں ہیں بلکہ خدمات اور سرمایہ کاری جیسے شعبے بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔اجلاس میں تھائی لینڈ کے قونصل جنرل سوراشیٹ بوونٹنانڈ، سینئر نائب صدر ضیاالعارفین، نائب صدر فیصل خلیل احمد، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبسیز لائژن سب کمیٹی احسن ارشد شیخ، سابق صدر مجید عزیز، کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین اور تھائی سفارتخانے اسلام آباد اور کراچی قونصلیٹ کے نمائندے بھی شریک تھے۔تھائی سفیر نے تھائی لینڈ اور پاکستان کے درمیان تجارت کی موجودہ مالیت 1.1 ارب ڈالر سے بڑھا کر 2 ارب ڈالر تک پہنچانے کے اپنے عزم کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کرونا وبا سے قبل دونوں ممالک کے درمیان تجارت 1.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی جس کی بنا پر مشترکہ کوششوں سے2 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔ہم تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں اور ایسی سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں جو دوطرفہ تجارت کو بڑھا سکیں۔انہوں نے دوطرفہ تجارت کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی تھائی لینڈ کو برآمدات فی الحال تقریباً150 ملین ڈالر ہیں جبکہ تجارتی توازن تھائی لینڈ کے حق میں ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تھائی لینڈ کو پاکستان کے لیے برآمدات بڑھانے کی گنجائش موجود ہے خصوصاً فارماسیوٹیکل،سمندری خوراک، کیمیکلز اور سیمنٹ کے شعبے قابل ذکر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت کا تقریباً 60 فیصد حصہ خدمات کے شعبے سے چلتا ہے جو تعاون کے لیے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے۔اگرچہ مینوفیکچرنگ تجارت کا ایک اہم جزو ہے لیکن ہمیں اپنے تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے خدمات کے شعبے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔تھائی سفیر نے تھائی لینڈ کی الیکٹرک گاڑیوں کی حمایت پر زور دیا جو تھائی آٹوموبائل مارکیٹ میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ تھائی لینڈ پاکستان کو اپنے ای وی صنعت کو فروغ دینے میں مدد کر سکتا ہے جس میں مہارت اور ٹیکنالوجی کا اشتراک شامل ہوگا۔انہوں نے کراچی کے دوطرفہ تجارت میں اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ہمارے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا بنیادی مرکز ہے اور تھائی لینڈ کے ساتھ تجارت میں منسلک بہت سے تاجر بھی اس شہر کے اہم چیمبر کے اراکین ہیں۔یہ ہمارے کے سی سی آئی کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ہماری خواہش کو اجاگر کرتا ہے جو کراچی کے کاروباری طبقے کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔انہوں نے کاروباری لاگت کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی خاص طور پر آسیان سنگل ونڈو سسٹم جیسی اختراعات کے ذریعے جو آسیان ممالک کے درمیان کسٹم کلیئرنس کے لیے ایک پیپر لیس پلیٹ فارم ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اس نظام کو آسیان کے تجارتی شراکت داروں بشمول پاکستان تک توسیع دی جا سکتی ہے تاکہ کاروباری لاگت کو کم کیا جا سکے۔ پاکستان کا ملائیشیا کے ساتھ ایف ٹی اے پاکستان کو آسیان سنگل ونڈو پیپر لیس کلیئرنس سسٹم سے فائدہ اٹھانے کا اہل بناتا ہے۔انہوں نے کراچی میں آسیان ٹریڈ فیئر کے انعقاد کی تجویز پیش کی جہاں پاکستان اور آسیان ممالک کے خریدار اور فروخت کنندگان مل کر تجارتی مواقعوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ کراچی اس طرح کے ایونٹ کے لیے ایک مثالی مقام ہے کیونکہ یہ اسٹریٹجک لحاظ سے مرکز میں واقع ہے۔اس موقع پر کراچی میں تھائی لینڈ کے قونصل جنرل نے ای ویزا سہولت متعارف کرانے کا اعلان کیا جس کے تحت درخواست گزاروں کو تھائی لینڈ کے ویزا کے لیے آن لائن درخواست دینے کی سہولت میسر ہے جس سے قونصلیٹ میں ذاتی طور پر جانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ یہ نئی سہولت پاکستانی شہریوں کے لیے تھائی لینڈ کا سفر آسان بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے اور ہم تجارت و دوطرفہ تعلقات کو آسان بنانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔قبل ازیں کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ضیاء  العارفین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان طویل المدت تعلقات قائم ہیں جو باہمی احترام، مشترکہ اصولوں اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں جو سال بہ سال مستحکم ہوتے رہے ہیں۔پاکستان تھائی لینڈ کے اہم شعبوں جیسے آٹوموبائل انڈسٹری، سی فوڈز، ربڑ اور سیاحت میں اپنے تجارتی اثر و رسوخ کو بڑھا کر بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ان شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانا نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ دے گا بلکہ پاکستان کی وسیع تر آسیان مارکیٹ میں موجودگی کو بھی بڑھا دے گا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تجارتی صلاحیت کے باوجود پاکستان کی تھائی لینڈ کو برآمدات نسبتاً کم یعنی تقریباً 149 ملین ڈالر ہیں جبکہ تھائی لینڈ سے درآمدات مالی سال 2024 میں 719 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک نے تھائی لینڈ اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس معاہدے کو حتمی شکل دینا تجارتی توسیع اور گہرے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کے لیے نئی راہیں کھولے گا۔