پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جب تک ٹیکس کلچر نہیں آتا، شرح نمو کم اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا: ملک خدا بخش

کراچی،25فروری (پی پی آئی)پاکستان بزنس فورم (کراچی چیپٹر) کے صدر ملک خدا بخش نے کہا کہ توانائی اور ٹیکس اصلاحات کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور تاجر برادری وزیراعظم اور آرمی چیف کے وڑن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بھرپور تعاون کریں۔ پاکستان بزنس فورم کے ایک بیان کے مطابق ملک خدا بخش نے  ایک بیان میں کہا کہ اہم معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے، جس میں ٹیکس اور توانائی کے نظام کی اصلاحات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف نے ملک میں سیاسی استحکام کو یقینی بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے 40 ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری درست سمت میں پیش رفت کا ثبوت ہے۔ حکومت کو آئی ایم ایف کی اگلی قسط حاصل کرنے میں خاص مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ملک خدا بخش نے ٹیکس کلچر کی کمی کو نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بالواسطہ ٹیکسز کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے، جس سے غریب طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک ٹیکس کلچر تیار نہیں ہوتا، ملکی شرح نمو کم رہے گی اور بے روزگاری کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ملک خدا بخش نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب کو بڑھائے بغیر یہ ممکن نہیں۔ملک خدا بخش نے عوام، سیاسی جماعتوں اور تاجر برادری کو وزیراعظم اور آرمی چیف کے وڑن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تعاون کا مشورہ دیا تاکہ پاکستان کو ایک مضبوط معاشی طاقت بنایا جا سکے۔