متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کرم میں حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہورہے ہیں: علامہ سیدساجد نقوی

کراچی،4مارچ (پی پی آئی)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ کرم میں حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہورہے ہیں، جرگوں کے اتفاق رائے کے باوجود امدادی قافلوں پر حملے تشویشناک ہیں، چار ماہ سے آمد و رفت معطل ہے جس کے باعث انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ تنازعے کے حل کیلئے اتحاد و وحدت کے علمبردار علما  اور اکابرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔شیعہ علما کونسل صوبہ سندھ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ زمینی اور قبائلی تنازعے کے بعد اسے فرقہ وارانہ رنگ دیا جارہا ہے، اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے سروں کی قیمت مقرر کرنا آخری آپشن ہونا چاہیے جبکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے ان علما  و اکابرین سے رجوع کیا جائے جو ہمیشہ اتحاد و وحدت کے داعی رہے ہیں اور جنہوں نے ان مسائل کے حل میں عملی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام اور مختلف مکاتب فکر پر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو بھی امن کے قیام کیلئے شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے علما اور اکابرین کی معاونت حاصل کی جائے جنہوں نے ہمیشہ فرقہ وارانہ مسائل کے حل اور امن و استحکام کیلئے کام کیا ہے۔علامہ ساجد نقوی نے تجویز دی کہ فرقہ وارانہ تنازعات کے خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں کی جائیں تاکہ کرم میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔