پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

قائد حزب اختلاف سندھ علی خورشید کی پیپلز پارٹی پر شدید تنقید

سکھر، 14اپریل (پی پی آئی) ایم کیو ایم پاکستان کے قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران پیپلز پارٹی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے سندھ بھر میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی، خاص طور پر صاف پانی کی قلت اور صحت کے مسائل پر بات کی۔خورشیدی نے کہا کہ 2024 کے انتخابات میں ایم کیو ایم سندھ کی دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان سب سے مضبوط جماعت ہے اور وہ دیہی اور شہری سندھ کے مقدمات کو حکمرانوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔علی خورشیدی نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سترہ سال میں 25000 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود عوام کو صاف پانی فراہم نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے دعوے کے باوجود کسی بھی یوسی میں صاف پانی فراہم نہیں کر سکی۔انہوں نے سندھ کے تین بڑے شہروں، کراچی، حیدر آباد اور سکھر میں بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی کی نشاندہی کی۔ علی خورشید ی نے کہا کہ سکھر شہر کی آبادی ایک کروڑ بھی نہیں، لیکن یہاں بھی صاف پانی میسر نہیں ہے۔علی خورشید ی نے صحت کے شعبے کی بدحالی پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ سکھر سول ہسپتال میں برنس وارڈ نہیں ہے اور سرد خانے کی جگہ بھی نہیں ہے۔ ادویات کی عدم دستیابی کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے الیکشن میں پیپلز پارٹی کی کامیابی پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ بندیوں میں تکنیکی تبدیلیاں کی گئی ہیں جس سے پیپلز پارٹی 168 میں سے 200 سیٹیں جیت سکتی ہے۔علی خورشید ی نے کہا کہ اگر حکومت نے اپنے قبلہ کو درست نہ کیا تو عوام احتجاج کریں گے اور بدمعاشی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایم کیو ایم کسی صورت میں کینالز کو قبول نہیں کرے گی۔پریس کانفرنس کے دوران علی خورشید ی نے سیپکو اور حیسکو کے سربراہان کی موجودگی میں کہا کہ ان کا قبلہ درست نہ کرنے کی صورت میں عوام ان کو جوتے مارنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے تین مرتبہ سیپکو چیف کی سرزنش کی اور ان کو قبلہ درست کرنے کی ہدایت دی۔