ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جموں کشمیر ماس موومینٹ نے بھی حریت کانفرنس علی گیلانی گروپ سے لاتعلقی کر دی

 سرینگر، 15 اپریل(پی پی آئی) تہاڑ جیل میں قید فریدہ بہن جی کی سیاسی جماعت جموں کشمیر ماس موومینٹ نے بھی حریت کانفرنس علی گیلانی گروپ سے لاتعلقی کر دی ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ – آزاد جموں و کشمیر کے بیان کے مطابق حالیہ دنوں میں حریت کانفرنس کی بارہ اکائیاں تحریک آزادی کشمیر سے دستبردار ہو چکی ہیں۔ یہ اکائیاں دو ہفتوں کے دوران بھارتی آئین کو تسلیم کر چکی ہیں۔جموں کشمیر ماس موومینٹ سے پہلے اسلامک پولیٹیکل پارٹی اور مسلم ڈیموکریٹک لیگ کے سربراہان بھی بھارتی آئین کو تسلیم کر چکے ہیں۔ حزب المجاہدین کے بانی کمانڈر ظفر اکبر بھٹ کی اہلیہ نیلو فر اکبر نے بھی بھارتی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ظفر اکبر بھٹ کو کشمیر کے طلبہ سے میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے رقم لینے کے الزام میں زیر حراست رکھا گیا ہے۔جماعت اسلامی جموں کشمیر نے بھی بھارتی الیکشن میں حصہ لیا، مگر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد الحاق پاکستان کی حامی بارہ اور جماعتیں بھارت سے وفاداری کا اعلان کر چکی ہیں۔ حریت کانفرنس علی گیلانی گروپ کے کئی اہم رہنماؤں نے بھارت سے وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے حریت کانفرنس سے لاتعلقی اختیار کی ہے۔دوسری جانب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک تہاڑ جیل میں قید ہیں اور بھارتی حکومت کے ساتھ کسی قسم کی سودے بازی سے انکاری ہیں۔ جے کے ایل ایف کے دیگر رہنماؤں نے بھی بھارت سے وفاداری نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔