ایبٹ آباد میں حاشر تاج تشدد کیس کا مرکزی ملزم گرفتار

سندھ میں نئی کنوؤں سے گیس کی پیداوار کا آغاز

کراچی پاپوش میں تشدد زدہ لاش دریافت

اوپن مارکیٹ میں ڈالر مستحکم، یورو میں کمی جبکہ برطانوی پاؤنڈ معمولی مہنگا

تلہار کے نواح میں مہنگائی سے پریشان محنت کش نےخود کشی کرلی

ٹھٹھہ بائی پاس کے قریب کار کی ٹکر سے راہگیر خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق ایک زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان کامصنوعی ذہانت کی تعلیم میں ترقی کا ہدف

اسلام آباد، 18اپریل (پی پی آئی) پاکستان نے آج ابتدائی اسکول سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک طلباء کے لیے ایک جامع مصنوعی ذہانت (AI) نصاب متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ وفاقی وزارت تعلیم کے تحت نافذ کیا جائے گا اور اس کا مقصد پاکستانی طلباء  کو تیزی سے ٹیکنالوجی پر مبنی مہارت فراہم کرنا ہے۔ یہ تجویز ڈاکٹر اشفاق احمد نے پارلیمانی سیکریٹری محترمہ فرح ناز اکبر کی زیر قیادت ہونے والے ایک اجلاس کے دوران پیش کی، جس کا مقصد پاکستان کے ٹیکنالوجی کے شعبے کو آگے بڑھانا اور تعلیمی و صحت کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ ڈاکٹر احمد کی تجویز ملک سے افرادی قوت کی تربیت کی امید ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کو ایک اہم ٹول کے طور پر بتایا گیا ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں مشیر، مسٹر شمشاد احمد خان نے بھی بات چیت میں حصہ لیا اور خاص طور پر کویت میں تعلیمی اور صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے بارے میں مشورہ دیا۔ اجلاس میں ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور جدت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔یہ مصنوعی ذہانت کا نصاب پاکستان کے تعلیمی نظام کو جدید بنانے، تکنیکی ترقی کو فروغ دینے، اور ملک کے طلباء کو عالمی معیشت کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرنے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔ حکومت کی مصنوعی ذہانت پر توجہ عالمی رجحانات کے مطابق ہے اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت پرمثبت طور پر اثر انداز ہونے کی توقع ہے۔