آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سندھ میں خواتین زرعی مزدوروں کے قانون پر عملدرآمد کو مؤثر بنانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت

کراچی، 29 اپریل (پی پی آئی) سندھ ہیومن رائٹس کمیشن (ایس ایچ آر سی) نے آواز سی ڈی ایس پاکستان اور ناری فاؤنڈیشن کے اشتراک سے سندھ ویمن ایگریکلچرل ورکرز ایکٹ 2019 پر عملدرآمد کے فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے صوبائی اسٹیک ہولڈرز الائنس کی مشاورتی میٹنگ کا انعقاد کیا۔میٹنگ کی صدارت ایس ایچ آر سی کے چیئرمین اقبال احمد دیتھو نے کی جبکہ محکمہ انسانی حقوق کے سیکریٹری اکرام علی خواجہ شریک چیئرمین تھے۔ اجلاس میں لیبر، قانون، سیسی، منیمم ویجز بورڈ، سوشل پروٹیکشن اتھارٹی، بلدیاتی حکومت اور ویمن ڈویلپمنٹ سمیت اہم سرکاری محکموں کے نمائندگان اور سول سوسائٹی تنظیموں کے اراکین نے شرکت کی۔ شرکاء   نے ایکٹ کے مجوزہ قواعد کا جائزہ لیا تاکہ خواتین زرعی مزدوروں کے لیے ایک صنف حساس اور حقوق پر مبنی قانونی ڈھانچہ یقینی بنایا جا سکے۔اقبال احمد دیتھو نے بتایا کہ یہ مشاورت سندھ ہائی کورٹ کے حکم (سی پی نمبر D-6265 آف 2024) کے مطابق منعقد کی گئی ہے، جس میں ایس ایچ آر سی نے تفصیلی سفارشات تیار کی ہیں۔ ان سفارشات میں سندھ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2013 کے ساتھ ہم آہنگی، سندھ منیمم ویجز ایکٹ میں زراعت کے شعبے کو شامل کرنے، اور رول 5 (عدت رخصت) کو ثقافتی اور مذہبی تنوع کا احترام کرتے ہوئے نرمی سے مرتب کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دودھ پلانے، بچوں کی نگہداشت اور ہراسگی سے تحفظ سے متعلق قوانین کو صوبائی سطح پر موجودہ قوانین کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی سفارش کی گئی۔کمیشن نے عملدرآمد فریم ورک کو سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 سے جوڑنے اور سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے ساتھ سماجی تحفظ کے طریقہ کار کو مربوط کرنے کی تجاویز بھی دیں۔ اجلاس میں ٹرائی پارٹائٹ آربیٹریشن بورڈز (TABs) کے لیے ایک ماڈل پیش کیا گیا جس میں خواتین زرعی مزدوروں، زمین داروں، سرکاری محکموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی شمولیت کی تجویز دی گئی۔ خواتین کو استحصال اور بے دخلی سے تحفظ دینے کے لیے سندھ ٹیننسی ایکٹ 1950 کا حوالہ بھی دیا گیا۔آواز سی ڈی ایس پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ضیاء   الرحمان نے سندھ حکومت کی جانب سے اس اہم قانون کی منظوری کو سراہتے ہوئے کہا کہ مؤثر عملدرآمد کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین زرعی مزدوروں کو رسمی طور پر تسلیم کرنا، ان کے یونین بنانے کے حق کو یقینی بنانا اور لیبر پروٹیکشن کو سماجی تحفظ کے نظام سے جوڑنا ناگزیر ہے۔محکمہ محنت کے نمائندے رجھو مل نے یقین دہانی کرائی کہ دی گئی سفارشات کو حتمی قواعد میں شامل کرنے کے لیے زیر غور لایا جائے گا اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔ اجلاس کے اختتام پر سیکریٹری محکمہ انسانی حقوق اکرام علی خواجہ نے کہا کہ خواتین زرعی مزدوروں کو باوقار مقام، تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کے لیے ایسے قواعد و ضوابط ضروری ہیں جو قانونی طور پر مضبوط، سماجی طور پر جامع اور انتظامی طور پر قابلِ عمل ہوں۔