آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

حکومت سندھ، پپلزپارٹی رہنماؤں کانہری منصوبہ مسترد ہونیکا خیرمقدم

کراچی،29اپریل (پی پی آئی)سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت نے منگل کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی جانب سے دریائے سندھ پر تجویز کردہ متنازع نہری منصوبوں کو مسترد کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے آئینی بالادستی اور صوبائی حقوق کی فتح قرار دیا۔ترجمان سندھ حکومت کے مطابق سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فیصلہ کسی فرد کی جیت یا ہار نہیں بلکہ پاکستان کے اتحاد اور انصاف کی فتح ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقوق کے باہمی احترام نے ملک کی ہم آہنگی کو تقویت دی ہے۔معاونین خصوصی منصور شاہانی اور ڈاکٹر لال چند یوکرانی نے بھی بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کی قیادت کی تعریف کی اور نہر کے منصوبوں کے ختم کیے جانے کی وجہ ان کی موثر وکالت کو قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اقدام سے سندھ کے کسانوں اور شہری باشندوں کے پانی کے حقوق کا تحفظ ہوا۔صوبائی وزراء بشمول مکیش کمار چاولہ اور سید ریاض حسین شاہ شیرازی نے بھی اسی طرح کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فیصلے کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے سیاسی مصلحتوں پر عوامی مفادات کو مسلسل ترجیح دینے پر پیپلز پارٹی کی تعریف کی اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے پر قیادت کو سراہا۔صحت عامہ کے اسپیشل اسسٹنٹ محمد سلیم بلوچ اور وزیر آبپاشی جام خان شورو نے سندھ حکومت کی جانب سے تنازع کے دوران کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا کہ سندھ کے نمائندوں کی مسلسل مخالفت نے اس نتیجے تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی آئی کے فیصلے سے سندھ میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے دیرینہ خدشات کو کم کرنے میں مددمل سکتی ہے اور یہ قومی وسائل کے انتظام پر آئندہ پالیسی مذاکرات سے قبل پی پی پی کی قیادت کے لیے ایک اہم سیاسی کامیابی بھی خیال کی جارہی ہے۔