پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بھارت فوجی کارروائی کرسکتا ہے، عطا تارڑ

اسلام آباد،30اپریل (پی پی آئی) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے پاس قابل اعتماد انٹیلی جنس معلومات ہیں جن کے مطابق حالیہ پہلگام واقعہ پر بے سروپا اور من گھڑت الزامات کو بنیاد بنا کر اگلے 24 سے 36 گھنٹوں کے اندر بھات ممکنہ طور پر پاکستان کیخلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔بدھ کے روزعلی الصبح جاری کیے گئے بیان میں، عطاتارڑ نے خطے میں بھارت کے “لاپرواہ” انداز پر تنقید کرتے ہوئے اس پر یکطرفہ طور پر “جج، جیوری، اونافذ کرنے والے” کا کردار سنبھالنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے، اس نے ہمیشہ اس کی ہر شکل اور جگہ پر اس کی مذمت کی ہے۔بیان میں ماہرین کے ایک غیر جانبدار کمیشن کے ذریعے واقعے کی “معتبر، شفاف اور آزاد” تحقیقات کرنے کی اسلام آباد کی پیشکش میں بھارت نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے، بجائے اس کے کہ “غیر معقولیت اور تصادم کے خطرناک راستے” کا انتخاب کیا جائے۔پہلگام واقعہ – جس کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں – نے دو جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان سفارتی اور فوجی تناؤ کو بڑھا دیا ہے۔ جہاں نئی دہلی نے سرحد پار ملوث ہونے کا اشارہ دیا ہے، اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ بھارت کے الزامات کو سیاسی طور پر دیکھتا ہے۔تارڑ نے انتخابی فائدے کے لیے عوامی جذبات کو بھڑکانے کی مبینہ بھارتی حکمت عملی کی مذمت کرتے ہوئے اسے “بدقسمتی اور افسوسناک” قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کا ”فیصلہ کن اور یقینی“ جواب دیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خطرے سے خبردار رہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی نتیجے میں ہونے والے تنازع کی ذمہ داری پوری طرح بھارت پر عائد ہوگی۔